معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا
کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے
کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا
میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت
آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ہوگا
رات جل تھل مری آنکھوں میں اتر آیا تھا
صورت ابر کوئی ٹوٹ کے برسا ہوگا
یہ مسیحائی اسے بھول گئی ہے محسنؔ
یا پھر ایسا ہے مرا زخم ہی گہرا ہوگا
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا
کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے
کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا
میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت
آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ہوگا
رات جل تھل مری آنکھوں میں اتر آیا تھا
صورت ابر کوئی ٹوٹ کے برسا ہوگا
یہ مسیحائی اسے بھول گئی ہے محسنؔ
یا پھر ایسا ہے مرا زخم ہی گہرا ہوگا
By Mohsin Maqvi
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا
کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے
کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا
میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت
آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ہوگا
رات جل تھل مری آنکھوں میں اتر آیا تھا
صورت ابر کوئی ٹوٹ کے برسا ہوگا
یہ مسیحائی اسے بھول گئی ہے محسنؔ
یا پھر ایسا ہے مرا زخم ہی گہرا ہوگا
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا
کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے
کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا
میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت
آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ہوگا
رات جل تھل مری آنکھوں میں اتر آیا تھا
صورت ابر کوئی ٹوٹ کے برسا ہوگا
یہ مسیحائی اسے بھول گئی ہے محسنؔ
یا پھر ایسا ہے مرا زخم ہی گہرا ہوگا
By Mohsin Maqvi
Comments
Post a Comment