بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا
بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا
زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا
تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی
تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا
ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ
مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا
جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے
کہو کچھ استفادہ کر لیا کیا
بہت کترا رہے ہو مغبچوں سے
گناہ ترک بادہ کر لیا کیا
یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیں
سفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا
اٹھایا اک قدم تو نے نہ اس تک
بہت اپنے کو ماندہ کر لیا کیا
تم اپنی کج کلاہی ہار بیٹھیں
بدن کو بے لبادہ کر لیا کیا
بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
By John Aliya
بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا
زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا
تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی
تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا
ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ
مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا
جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے
کہو کچھ استفادہ کر لیا کیا
بہت کترا رہے ہو مغبچوں سے
گناہ ترک بادہ کر لیا کیا
یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیں
سفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا
اٹھایا اک قدم تو نے نہ اس تک
بہت اپنے کو ماندہ کر لیا کیا
تم اپنی کج کلاہی ہار بیٹھیں
بدن کو بے لبادہ کر لیا کیا
بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
By John Aliya
Comments
Post a Comment