By Mohsin Naqvi

میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا 
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا 

اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے 
کل مل گیا تو وہ بھی دریدہ لباس تھا 

میں ڈھونڈھتا تھا دور خلاؤں میں ایک جسم 
چہروں کا اک ہجوم مرے آس پاس تھا 

تم خوش تھے پتھروں کو خدا جان کے مگر 
مجھ کو یقین ہے وہ تمہارا قیاس تھا 

بخشا ہے جس نے روح کو زخموں کا پیرہن 
محسنؔ وہ شخص کتنا طبیعت شناس تھا 
 By Mohsin Naqvi

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا 
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا 

اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں 
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا 

کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے 
کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا 

میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت 
آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ہوگا 

رات جل تھل مری آنکھوں میں اتر آیا تھا 
صورت ابر کوئی ٹوٹ کے برسا ہوگا 

یہ مسیحائی اسے بھول گئی ہے محسنؔ 
یا پھر ایسا ہے مرا زخم ہی گہرا ہوگا 

 By Mohsin Maqvi

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے
اڑ گیا جب رنگ رخ سے استخواں پیدا ہوئے

خاکساری نے دکھائیں رفعتوں پر رفعتیں
اس زمیں سے واہ کیا کیا آسماں پیدا ہوئے

علم خالق کا خزانہ ہے میان کاف و نون
ایک کن کہنے سے یہ کون و مکاں پیدا ہوئے

ضبط دیکھو سب کی سن لی اور کچھ اپنی کہی
اس زباں دانی پر ایسے بے زباں پیدا ہوئے

شور بختی آئی حصے میں انہیں کے وا نصیب
تلخ کامی کے لیے شیریں زباں پیدا ہوئے

احتیاط جسم کیا انجام کو سوچو انیسؔ
خاک ہونے کو یہ مشت استخواں پیدا ہوئے

By Mir Anees

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو
ہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کو

پڑھیں درود نہ کیوں دیکھ کر حسینوں کو
خیال صنعت صانع ہے پاک بینوں کو

کمال فقر بھی شایاں ہے پاک بینوں کو
یہ خاک تخت ہے ہم بوریا نشینوں کو

لحد میں سوئے ہیں چھوڑا ہے شہ نشینوں کو
قضا کہاں سے کہاں لے گئی مکینوں کو

یہ جھریاں نہیں ہاتھوں پہ ضعف پیری نے
چنا ہے جامۂ اصلی کی آستینوں کو

لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار
خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو

بھلا تردد بے جا سے ان میں کیا حاصل
اٹھا چکے ہیں زمیندار جن زمینوں کو

انہیں کو آج نہیں بیٹھنے کی جا ملتی
معاف کرتے تھے جو لوگ کل زمینوں کو

یہ زائروں کو ملیں سرفرازیاں ورنہ
کہاں نصیب کہ چومیں ملک جبینوں کو

سجایا ہم نے مضامیں کے تازہ پھولوں سے
بسا دیا ہے ان اجڑی ہوئی زمینوں کو

لحد بھی دیکھیے ان میں نصیب ہو کہ نہ ہو
کہ خاک چھان کے پایا ہے جن زمینوں کو

زوال طاقت و موئے سپید و ضعف بصر
انہیں سے پائے بشر موت کے قرینوں کو

نہیں خبر انہیں مٹی میں اپنے ملنے کی
زمیں میں گاڑ کے بیٹھے ہیں جو دفینوں کو

خبر نہیں انہیں کیا بندوبست پختہ کی
جو غصب کرنے لگے غیر کی زمینوں کو

جہاں سے اٹھ گئے جو لوگ پھر نہیں ملتے
کہاں سے ڈھونڈ کے اب لائیں ہم نشینوں کو

نظر میں پھرتی ہے وہ تیرگی و تنہائی
لحد کی خاک ہے سرمہ مآل بینوں کو

خیال خاطر احباب چاہیئے ہر دم
انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

By Mir Anees

اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا

اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا
قسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا

کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

آوے جو مصطبہ میں تو سن لو کہ راہ سے
واعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا

نے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوش
آیا جو سیل عشق سب اسباب لے گیا

میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیا
رویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا

احوال اس شکار زبوں کا ہے جائے رحم
جس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا

منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے
شب ہم کو میرؔ پرتو مہتاب لے گیا

By Mir Taqi Mir

Kya kahun tum se main ke kya hai ishq,

Kya kahun tum se main ke kya hai ishq,
Jaan ka rog hai, bala hai ishq.

Ishq hi ishq hai jahaan dekho,
Saare aalam mein bhar raha hai ishq.

Ishq maashuq ishq aashiq hai,
Yaani apna hi mubtala hai ishq.

Ishq hai tarz-o-taur ishq ke taeen,
Kahin banda kahin Khuda hai ishq.

Kaun maqsad ko ishq bin pohuncha,
Aarzoo ishq wa mudda hai ishq.

Koi khwaahan nahin mahabbat ka,
Tu kahe jins-e-narawa hai ishq.

Mir ji zarad hote jaate hain,
Kya kahin tum ne bhi kiya hai ishq?


By Mir Taqi Mir

Faqiraana aae sadaa kar chale,

Faqiraana aae sadaa kar chale,
Miyaan khush raho ham dua kar chale.

Jo tujh bin na jeene ko kahte the ham,
So is ahd ko ab wafa kar chale.

Koi naumidana karte nigah,
So tum ham se munh bhi chhipa kar chale.

Bahut aarzoo thi gali ki teri,
So yaan se lahu mein naha kar chale.

Dikhai diye yun ke bekhud kiya,
Hamen aap se bhi juda kar chale.

Jabin sijda karte hi karte gayi,
Haq-e-bandgi ham ada kar chale.

Prastash ki yaan taeen ke ai but tujhe,
Nazr mein sabhon ki Khuda kar chale.

Gayi umr dar band-e-fikr-e-ghazal,
So is fan ko aisa bara kar chale.

Kahen kya jo puchhe koi ham se Mir,
Jahaan mein tum ae the kya kar chale.
 


By Mir Taqi Mir

Ibtadaae ishq hai rota hai kya,

Ibtadaae ishq hai rota hai kya,
Aage aage dekhiye hota hai kya.

Qafile mein subah ke ek shor hai,
Yaani ghaafil ham chale sota hai kya.

Sabz hoti hi nahin yeh sar zamin,
Tukhm-e-khwahish dil mein tu bota hai kya.

Yeh nishaan-e-ishq hain jaate nahin,
Daagh chhaati ke abas dhota hai kya.

Ghairat-e-Yousaf hai yeh waqt-e-aziz,
Mir isko raigaan khota hai kya. 


By Mir Taqi Mir

Ashk-e chakidah

اشکِ چکیدہ رنگِ پریدہ
ہر طرح ہوں میں از خود رمیدہ

گو یاد مجھ کو کرتے ہیں خوباں
لیکن بہ سانں دردں کشیدہ

ہے رشتئہ جاں فرطِ کشش سے
مانندِ نبضِ دستِ بریدہ

ٹوٹا ہے افسوس موئے خمِ زلف
ہے شانہ یک سر دستِ گزیدہ

خالِ سیاہِ رنگیں رخاں سے
ہے داغِ لالہ در خوں طپیدہ

جوشِ جنوں سے جوں کسوتِ گل
سر تا بہ پا ہوں جیبِ دریدہ

یارو اسد کا نام و نشاں کیا
بے دل فقیرِ آفت رسیدہ

By Mirza Asad Ullah Khan Ghalib

شمع و پروانہ

پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع! پیار کیوں
یہ جانِ بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں
آدابِ عشق تُو نے سِکھائے ہیں کیا اسے؟
سیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا
آزارِ موت میں اسے آرامِ جاں ہے کیا؟
پھُونکا ہُوا ہے کیا تری برقِ نگاہ کا؟ شعلے میں تیرے زندگیِ جاوداں ہے کیا؟
ننھّے سے دل میں لذّتِ سوز و گداز ہے
غم خانۀ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہو اس تفتہ دل کا نخلِ تمنا ہرا نہ ہو گِرنا ترے حضور میں اس کی نماز ہے
کِیڑا ذرا سا، اور تمنّائے روشنی!
کچھ اس میں جوشِ عاشقِ حُسنِ قدیم ہے چھوٹا سا طُور تُو، یہ ذرا سا کلیمِ ہے
پروانہ، اور ذوقِ تماشائے روشنی

By Allama Muhammad Iqbal

خُفتگانِ خاک سے استفسار

مہرِ روشن چھُپ گیا، اُٹھّی نقابِ رُوئے شام
شانۀ ہستی پہ ہے بکھرا ہُوا گیسُوئے شام
محفلِ قُدرت مگر خورشید کے ماتم میں ہے
یہ سیَہ پوشی کی تیّاری کسی کے غم میں ہے کر رہا ہے آسماں جادُو لبِ گُفتار پر
ہاں، مگر اک دُور سے آتی ہے آوازِ درا
ساحرِ شب کی نظر ہے دیدۀ بیدار پر غوطہ زن دریائے خاموشی میں ہے موجِ ہوا
منظرِ حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں میں
دل کہ ہے بے تابیِ اُلفت میں دنیا سے نفُور کھینچ لایا ہے مجھے ہنگامۀ عالم سے دُور
اور اس بستی پہ چار آنسو گرانے دے مجھے
ہم نشینِ خُفتگان کُنجِ تنہائی ہوں میں تھم ذرا بے تابیِ دل! بیٹھ جانے دے مجھے اے مئے غفلت کے سر مستو! کہاں رہتے ہو تم؟
آدمی واں بھی حصارِ غم میں ہے محصُور کیا؟
کُچھ کہو اُس دیس کی آخر، جہاں رہتے ہو تم وہ بھی حیرت خانۀ امروز و فردا ہے کوئی؟ اور پیکارِ عناصِر کا تماشا ہے کوئی؟
یاں تو اک مصرع میں پہلو سے نکل جاتا ہے دل
اُس ولایت میں بھی ہے انساں کا دل مجبُور کیا؟ واں بھی جل مرتا ہے سوزِ شمع پر پروانہ کیا؟ اُس چمن میں بھی گُل و بُلبل کا ہے افسانہ کیا؟
اس جہاں میں اک معیشت اور سَو اُفتاد ہے
شعر کی گرمی سے کیا واں بھی پگھل جاتاہے دل؟ رشتہ و پیوند یاں کے جان کا آزار ہیں اُس گُلستاں میں بھی کیا ایسے نُکیلے خار ہیں؟ رُوح کیا اُس دیس میں اس فکر سے آزاد ہے؟
واں بھی انساں اپنی اصلیّت سے بیگانے ہیں کیا؟
کیا وہاں بجلی بھی ہے، دہقاں بھی ہے، خرمن بھی ہے؟ قافلے والے بھی ہیں، اندیشۀ رہزن بھی ہے؟ تِنکے چُنتے ہیں وہاں بھی آشیاں کے واسطے؟ خِشت و گِل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے؟ امتیازِ ملّت و آئِیں کے دیوانے ہیں کیا؟
آگ کے شعلوں میں پنہاں مقصدِ تادیب ہے؟
واں بھی کیا فریادِ بُلبل پر چمن روتا نہیں؟ اِس جہاں کی طرح واں بھی دردِ دل ہوتا نہیں؟ باغ ہے فردوس یا اک منزلِ آرام ہے؟ یا رُخِ بے پردۀ حُسنِ ازل کا نام ہے؟ کیا جہنّم معصیت سوزی کی اک ترکیب ہے؟ کیا عوض رفتار کے اُس دیس میں پرواز ہے؟
واں بھی انساں ہے قتیلِ ذوقِ استفہام کیا؟
موت کہتے ہیں جسے اہلِ زمیں، کیا راز ہے؟ اضطرابِ دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے علمِ انساں اُس ولایت میں بھی کیا محدود ہے؟ دید سے تسکین پاتا ہے دلِ مہجُور بھی؟ ’لن ترانی‘ کہہ رہے ہیں یا وہاں کے طُور بھی؟ جستجو میں ہے وہاں بھی رُوح کو آرام کیا؟
موت اک چُبھتا ہُوا کانٹا دلِ انساں میں ہے
آہ! وہ کِشور بھی تاریکی سے کیا معمُور ہے؟ یا محبّت کی تجلّی سے سراپا نُور ہے؟
تم بتا دو راز جو اس گنبدِ گرداں میں ہے

By Allama Muhammad Iqbal

ماں کا خواب

میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
اندھیرا ہے اور راہ مِلتی نہیں
یہ دیکھا کہ مَیں جا رہی ہوں کہیں
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال قدم کا تھا دہشت سے اُٹھنا محال
دِیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی زَمرّد سی پوشاک پہنے ہوئے وہ چُپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
خدا جانے جانا تھا اُن کو کہاں اسی سوچ میں تھی کہ میرا پِسر مجھے اُس جماعت میں آیا نظر
جُدائی میں رہتی ہوں مَیں بے قرار
دِیا اُس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا کہا مَیں نے پہچان کر، میری جاں! مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں؟
دیا اُس نے مُنہ پھیر کر یوں جواب
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی گئے چھوڑ، اچھّی وفا تم نے کی! جو بچّے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
سمجھتی ہے تُو ہو گیا کیا اسے؟
رُلاتی ہے تجھ کو جُدائی مری نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چُپ رہا دِیا پھر دِکھا کر یہ کہنے لگا
ترے آنسوؤں نے بُجھایا اسے!

By Allama Muhammad Iqbal

کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازی

کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازی
گُستاخ ہے، کرتا ہے فطرت کی حِنا بندی
خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکی
سِکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے
رومی ہے نہ شامی ہے، کاشی نہ سمرقندی
آدم کو سِکھاتا ہے آدابِ خداوندی!

By Allama Muhammad Iqbal

نے مُہرہ باقی، نے مُہرہ بازی

نے مُہرہ باقی، نے مُہرہ بازی
جیتا ہے رومیؔ، ہارا ہے رازیؔ
شاہی نہیں ہے بے شیشہ بازی
روشن ہے جامِ جمشید اب تک
دل ہے مسلماں میرا نہ تیرا
میں جانتا ہوں انجام اُس کا
تُو بھی نمازی، میں بھی نمازی!
جس معرکے میں مُلّا ہوں غازی
کارِ خلیلاں خارا گدازی
تُرکی بھی شیریں، تازی بھی شیریں
حرفِ محبت تُرکی نہ تازی
باقی ہے جو کچھ، سب خاک بازی
آزر کا پیشہ خارا تراشی
تُو زندگی ہے، پائندگی ہے

By Allama Muhammad Iqbal

ایک گائے اور بکری

اک چراگہ ہری بھری تھی کہیں
تھی سراپا بہار جس کی زمیں
کیا سماں اُس بہار کا ہو بیاں
ہر طرف صاف ندّیاں تھیں رواں
تھے اناروں کے بے شمار درخت
اور پیپل کے سایہ دار درخت
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں
طائروں کی صدائیں آتی تھیں
کسی ندّی کے پاس اک بکری
چَرتے چَرتے کہیں سے آ نکلی
جب ٹھہر کر اِدھر اُدھر دیکھا
پاس اک گائے کو کھڑے پایا
پہلے جھُک کر اُسے سلام کیا
پھر سلیقے سے یوں کلام کیا
کیوں بڑی بی! مزاج کیسے ہیں
گائے بولی کہ خیر اچھّے ہیں
کٹ رہی ہے بُری بھلی اپنی
ہے مصیبت میں زندگی اپنی
جان پر آ بنی ہے، کیا کہیے
اپنی قِسمت بُری ہے، کیا کہیے
دیکھتی ہوں خدا کی شان کو مَیں
رو رہی ہوں بُروں کی جان کو مَیں
زور چلتا نہیں غریبوں کا
پیش آیا لِکھا نصیبوں کا
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے
اس سے پالا پڑے، خدا نہ کرے
دُودھ کم دوں تو بڑبڑاتا ہے
ہوں جو دُبلی تو بیچ کھاتا ہے
ہتھکنڈوں سے غلام کرتا ہے
کِن فریبوں سے رام کرتا ہے
اس کے بچوں کو پالتی ہوں مَیں
دُودھ سے جان ڈالتی ہوں مَیں
بدلے نیکی کے یہ بُرائی ہے
میرے اﷲ! تری دُہائی ہے
سُن کے بکری یہ ماجرا سارا
بولی، ایسا گِلہ نہیں اچھّا
بات سچّی ہے بے مزا لگتی
مَیں کہوں گی مگر خدا لگتی
یہ چراگہ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا
یہ ہری گھاس اور یہ سایا
ایسی خوشیاں ہمیں نصیب کہاں
یہ کہاں، بے زباں غریب کہاں!
یہ مزے آدمی کے دَم سے ہیں
لُطف سارے اسی کے دَم سے ہیں
اس کے دَم سے ہے اپنی آبادی
قید ہم کو بھلی کہ آزادی!
سَو طرح کا بَنوں میں ہے کھٹکا
واں کی گُزران سے بچائے خُدا
ہم پہ احسان ہے بڑا اس کا
ہم کو زیبا نہیں گِلا اس کا
قدر آرام کی اگر سمجھو
آدمی کا کبھی گِلہ نہ کرو
گائے سُن کر یہ بات شرمائی
آدمی کے گِلے سے پچھتائی
دل میں پرکھا بھلا بُرا اُس نے
اور کچھ سوچ کر کہا اُس نے
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی

By Allama Muhammad Iqbal

ایک پہا ڑ اور گلہری

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے
ذرا سی چیز ہے، اس پر غرور، کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ، یہ شعور، کیا کہنا!
خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیں
جو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں
تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
زمیں ہے پست مری آن بان کے آگے
جو بات مجھ میں ہے، تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں
بھلا پہاڑ کہاں، جانور غریب کہاں!
کہا یہ سُن کے گلہری نے، مُنہ سنبھال ذرا
یہ کچّی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا
جو مَیں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تُو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا
ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا، کوئی چھوٹا، یہ اُس کی حکمت ہے
بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اُس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سِکھا دیا اُس نے
قدم اُٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں
نِری بڑائی ہے، خوبی ہے اور کیا تجھ میں
جو تُو بڑا ہے تو مجھ سا ہُنر دِکھا مجھ کو
یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دِکھا مجھ کو
نہیں ہے چیز نِکمّی کوئی زمانے میں
کوئی بُرا نہیں قُدرت کے کارخانے میں

By Allama Muhammad Iqbal

ایک مکڑا اور مکھّی

اک دن کسی مکھّی سے یہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا
لیکن مری کُٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت
بھُولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھّا
غیروں سے نہ مِلیے تو کوئی بات نہیں ہے
اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا
آؤ جو مرے گھر میں تو عزّت ہے یہ میری
وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا
مکھّی نے سُنی بات جو مکڑے کی تو بولی
حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا
اس جال میں مکھّی کبھی آنے کی نہیں ہے
جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا، پھر نہیں اُترا
مکڑے نے کہا واہ! فریبی مجھے سمجھے
تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو گا
منظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا
اُڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے
ٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں بُرا کیا!
اِس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں
باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کُٹیا
لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے
دیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے
ہر شخص کو ساماں یہ میّسر نہیں ہوتا
مکھّی نے کہا خیر، یہ سب ٹھیک ہے لیکن
میں آپ کے گھر آؤں، یہ امّید نہ رکھنا
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے
سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اُٹھ نہیں سکتا
مکڑے نے کہا دل میں، سُنی بات جو اُس کی
پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا
سَو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں
دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا
یہ سوچ کے مکھّی سے کہا اُس نے بڑی بی!
اﷲ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رُتبا
ہوتی ہے اُسے آپ کی صورت سے محبّت
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا
آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کَنیاں
سر آپ کا اﷲ نے کلغی سے سجایا
یہ حُسن، یہ پوشاک، یہ خوبی، یہ صفائی
پھر اس پہ قیامت ہے یہ اُڑتے ہوئے گانا
مکھی نے سُنی جب یہ خوشامد تو پسیجی
بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا
انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں بُرا میں
سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھّا نہیں ہوتا
یہ بات کہی اور اُڑی اپنی جگہ سے
پاس آئی تو مکڑے نے اُچھل کر اُسے پکڑا
بھوکا تھا کئی روز سے، اب ہاتھ جو آئی
آرام سے گھر بیٹھ کے مکھّی کو اُڑایا

By Allama Muhammad Iqbal

ابرِ کوہسار

ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا
ابرِ کُہسار ہوں گُل پاش ہے دامن میرا
کبھی صحرا، کبھی گُلزار ہے مسکن میرا
شہر و ویرانہ مرا، بحر مرا، بَن میرا
کسی وادی میں جو منظور ہو سونا مجھ کو
سبزۀ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو
مجھ کو قُدرت نے سِکھایا ہے دُرافشاں ہونا
ناقۀ شاہدِ رحمت کا حُدی خواں ہونا
غم زدائے دلِ افسُردۀ دہقاں ہونا
رونقِ بزمِ جوانانِ گُلستاں ہونا
بن کے گیسو رُخِ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں
شانۀ موجۀ صرصر سے سنور جاتا ہوں
دُور سے دیدۀ امیّد کو ترساتا ہوں
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں
سَیر کرتا ہُوا جس دم لبِ جُو آتا ہوں
بالیاں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں
سبزۀ مزرعِ نوخیز کی امّید ہوں میں
زادۀ بحر ہوں، پروردۀ خورشید ہوں میں
چشمۀ کوہ کو دی شورشِ قلزُم میں نے
اور پرندوں کو کیا محوِ ترنّم میں نے
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قُم میں نے
غنچۀ گُل کو دیا ذوقِ تبسّم میں نے
فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے
جھونپڑے دامنِ کُہسار میں دہقانوں کے

By Allama Muhammad Iqbal

By Allama Muhammad Iqbal

فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہُوا
ہے پرِ مرغِ تخیّل کی رسائی تا کجا
تھا سراپا روح تُو، بزمِ سخن پیکر ترا
زیبِ محفل بھی رہا، محفل سے پنہاں بھی رہا
دید تیری آنکھ کو اُس حُسن کی منظور ہے
بن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندّی کے نغموں سے سکُوتِ کوہسار
تیرے فردوسِ تخیّل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مُضمرَ ہے تیری شوخیِ تحریر میں
تابِ گویائی سے جُنبش ہے لبِ تصویر میں
نُطق کو سَو ناز ہیں تیرے لبِ اعجاز پر
محوِ حیرت ہے ثریّا رفعتِ پرواز پر
شاہدِ مضموں تصّدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچۀ دلّی گُلِ شیراز پر
آہ! تُو اُجڑی ہوئی دِلّی میں آرامیدہ ہے
گُلشنِ ویمر* میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
لُطفِ گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیّل کا نہ جب تک فکرِ کامل ہم نشیں
ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں
آہ! اے نظّارہ آموزِ نگاہِ نکتہ بیں
گیسوئے اُردو ابھی منّت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائیِ دل‌سوزیِ پروانہ ہے
اے جہان آباد! اے گہوارۀ عِلم و ہُنر
ہیں سراپا نالۀ خاموش تیرے بام و در
ذرّے ذرّے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
دفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسا بھی ہے؟
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟

By Allama Muhammad Iqbal

عہدِ طفلی

تھے دیارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے
وسعتِ آغوشِ مادَر اک جہاں میرے لیے
تھی ہر اک جُنبش نشانِ لطفِ جاں میرے لیے
حرفِ بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے
درد، طفلی میں اگر کوئی رُلاتا تھا مجھے
شورشِ زنجیرِ در میں لُطف آتا تھا مجھے
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر
وہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا اُس کا سفر
پُوچھنا رہ رہ کے اُس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حیرت دروغِ مصلحت آمیز پر
آنکھ وقفِ دید تھی، لب مائلِ گُفتار تھا
دل نہ تھا میرا، سراپا ذوقِ استفسار تھا

By Allama Muhammad Iqbal

گُلِ رنگیں

تُو شناسائے خراشِ عُقدۀ مشکل نہیں
اے گُلِ رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں
زیبِ محفل ہے، شریکِ شورشِ محفل نہیں
یہ فراغت بزمِ ہستی میں مجھے حاصل نہیں
اس چمن میں مَیں سراپا سوز و سازِ آرزو
اور تیری زندگانی بے گدازِ آرزو
توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئِیں نہیں
یہ نظر غیر از نگاہِ چشمِ صورت بیں نہیں
آہ! یہ دستِ جفا جُو اے گُلِ رنگیں نہیں
کس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ مَیں گُلچیں نہیں
کام مجھ کو دیدۀ حِکمت کے اُلجھیڑوں سے کیا
دیدۀ بُلبل سے مَیں کرتا ہوں نظّارہ ترا
سَو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
میری صورت تُو بھی اک برگِ ریاضِ طُور ہے
مَیں چمن سے دُور ہوں، تُو بھی چمن سے دُور ہے
مُطمئن ہے تُو، پریشاں مثلِ بُو رہتا ہوں میں
زخمیِ شمشیرِ ذوقِ جُستجو رہتا ہوں میں
یہ پریشانی مری سامانِ جمعیّت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغِ خانۀ حکمت نہ ہو
ناتوانی ہی مری سرمایۀ قوّت نہ ہو
رشکِ جامِ جم مرا آئینۀ حیرت نہ ہو
یہ تلاشِ متصّل شمعِ جہاں افروز ہے
تَوسنِ ادراکِ انساں کو خرام آموز ہے

By Allama Muhammad Iqbal

ہمالہ

اے ہمالہ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چُومتا ہے تیری پیشانی کو جھُک کر آسماں
تجھ میں کُچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تُو جواں ہے گردشِ شام و سحَر کے درمیاں
ایک جلوہ تھا کلیمِ طُورِ سینا کے لیے
تُو تجلّی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے
امتحانِ دیدۀ ظاہر میں کوہستاں ہے تُو
پاسباں اپنا ہے تو، دیوارِ ہندُستاں ہے تُو
مطلعِ اوّل فلک جس کا ہو وہ دِیواں ہے تُو
سُوئے خلوت گاہِ دل دامن کشِ انساں ہے تُو
برف نے باندھی ہے دستارِ فضیلت تیرے سر
خندہ زن ہے جو کُلاہِ مہرِ عالم تاب پر
تیری عمرِ رفتہ کی اک آن ہے عہدِ کُہن
وادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن
چوٹیاں تیری ثریّا سے ہیں سرگرمِ سخن
تُو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن
چشمۀ دامن ترا آئینۀ سیّال ہے
دامنِ موجِ ہوا جس کے لیے رُومال ہے
ابر کے ہاتھوں میں رہوارِ ہوا کے واسطے
تازیانہ دے دیا برقِ سرِ کُہسار نے
اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تُو بھی، جسے
دستِ قُدرت نے بنایا ہے عناصِر کے لیے
ہائے کیا فرطِ طرب میں جھُومتا جاتا ہے ابر
فیلِ بے زنجیر کی صُورت اُڑا جاتا ہے ابر
جُنبشِ موجِ نسیمِ صبح گہوارہ بنی
جھُومتی ہے نشّۀ ہستی میں ہر گُل کی کلی
یوں زبانِ برگ سے گویا ہے اس کی خامشی
دستِ گُلچیں کی جھٹک مَیں نے نہیں دیکھی کبھی
کہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مرا
کُنجِ خلوت خانۀ قُدرت ہے کاشانہ مرا
آتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی
آئنہ سا شاہدِ قُدرت کو دِکھلاتی ہوئی
سنگِ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئی
چھیڑتی جا اس عراقِ دل نشیں کے ساز کو
اے مُسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
لیلیِ شب کھولتی ہے آ کے جب زُلفِ رسا
دامنِ دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
وہ خموشی شام کی جس پر تکلّم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکّر کا سماں چھایا ہُوا
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگِ شفَق کُہسار پر
خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رُخسار پر
اے ہمالہ! داستاں اُس وقت کی کوئی سُنا
مسکنِ آبائے انساں جب بنا دامن ترا
کچھ بتا اُس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا
داغ جس پر غازۀ رنگِ تکلّف کا نہ تھا
ہاں دکھا دے اے تصوّر پھر وہ صبح و شام تُو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تُو

By Allama Muhammad Iqbal

فطرت کو خرد کے روبرو



فطرت کو خرد کے روبرو

تسخیر مقام رنگ و بو کر




تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے

کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر




تاروں کی فضا ہے بیکرانہ

تو بھی یہ مقام آرزو کر




عریاں ہیں ترے چمن کی حوریں

چاک گل و لالہ کو رفو کر




بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت

جو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر

By Allama Muhammad Iqbal

ستم سکھلائے گا رسم وفا ایسے نہیں ہوتا



ستم سکھلائے گا رسم وفا ایسے نہیں ہوتا

صنم دکھلائیں گے راہ خدا ایسے نہیں ہوتا




گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں

مرے قاتل حساب خوں بہا ایسے نہیں ہوتا




جہان دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں

یہاں پیمان تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا




ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوں تو ہوتا ہے

مگر ہر صبح ہو روز جزا ایسے نہیں ہوتا




رواں ہے نبض دوراں گردشوں میں آسماں سارے

جو تم کہتے ہو سب کچھ ہو چکا ایسے نہیں ہوتا

By Faiz Ahmed Faiz

بھابی



فرماتی هیں گھر میں دن بھر آرام 

اور بھائی کو دیکھتے هی رونے لگ جاتی هیں

یه ساس بهو سیریل والی 

هائے رے بھابھیاں بھی عجیب هوتی هیں

پھپھیاں تو ایویں هوگئیں بدنام

هائے یه بھابھیاں بڑی چلتر باز هوتی هیں

لگاتی هیں هر موقعے په گھر میں آگ

هائے رے بھا ھیاں بڑی فنکار هوتی هیں

شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب







شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب

مقام شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب




میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا

مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب




اگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طواف

مری نوا میں نہیں طائر چمن کا نصیب




سنا ہے میں نے سخن رس ہے ترک عثمانی

سنائے کون اسے اقبالؔ کا یہ شعر غریب




سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپنا

ستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب


By Allama Muhammad Iqbal

یہ حوریان فرنگی دل و نظر کا حجاب



یہ حوریان فرنگی دل و نظر کا حجاب

بہشت مغربیاں جلوہ ہائے پا برکاب




دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا

مہ و ستارہ ہیں بحر وجود میں گرداب




جہان صوت و صدا میں سما نہیں سکتی

لطیفۂ ازلی ہے فغان چنگ و رباب




سکھا دیے ہیں اسے شیوہ ہائے خانقہی

فقیہ شہر کو صوفی نے کر دیا ہے خراب




وہ سجدہ روح زمیں جس سے کانپ جاتی تھی

اسی کو آج ترستے ہیں منبر و محراب




سنی نہ مصر و فلسطیں میں وہ اذاں میں نے

دیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشۂ سیماب




ہوائے قرطبہ شاید یہ ہے اثر تیرا

مری نوا میں ہے سوز و سرور عہد شباب

By Allama Muhammad Iqbal

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد

یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد

ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل
یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد

قصوروار غریب الدیار ہوں لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے
وہ دشت سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد

خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد


By Allama Muhammad Iqbal

جز گماں اور تھا ہی کیا میرا



جز گماں اور تھا ہی کیا میرا

فقط اک میرا نام تھا میرا




نکہت پیرہن سے اس گل کی

سلسلہ بے صبا رہا میرا




مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈنے کی نہ تھی

مجھ میں کھویا رہا خدا میرا




تھوک دے خون جان لے وہ اگر

عالم ترک مدعا میرا




جب تجھے میری چاہ تھی جاناں

بس وہی وقت تھا کڑا میرا




کوئی مجھ تک پہنچ نہیں پاتا

اتنا آسان ہے پتا میرا




آ چکا پیش وہ مروت سے

اب چلوں کام ہو چکا میرا




آج میں خود سے ہو گیا مایوس

آج اک یار مر گیا میرا




By John Aliya

جانے کہاں گیا ہے وہ وہ جو ابھی یہاں تھا



جانے کہاں گیا ہے وہ وہ جو ابھی یہاں تھا

وہ جو ابھی یہاں تھا وہ کون تھا کہاں تھا




تا لمحۂ گزشتہ یہ جسم اور سائے

زندہ تھے رائیگاں میں جو کچھ تھا رائیگاں تھا




اب جس کی دید کا ہے سودا ہمارے سر میں

وہ اپنی ہی نظر میں اپنا ہی اک سماں تھا




کیا کیا نہ خون تھوکا میں اس گلی میں یارو

سچ جاننا وہاں تو جو فن تھا رائیگاں تھا




یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر

تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا




اس شہر کی حفاظت کرنی تھی ہم کو جس میں

آندھی کی تھیں فصیلیں اور گرد کا مکاں تھا




تھی اک عجب فضا سی امکان خال و خد کی

تھا اک عجب مصور اور وہ مرا گماں تھا




عمریں گزر گئی تھیں ہم کو یقیں سے بچھڑے

اور لمحہ اک گماں کا صدیوں میں بے اماں تھا




جب ڈوبتا چلا میں تاریکیوں کی تہ میں

تہ میں تھا اک دریچہ اور اس میں آسماں تھا




By John Aliya