Mery masehiah


☆میرے مسیحا☆                           
میرے مسیحا سے جاکے کہ دو
کہ دم بہ لب ہے قرارِ ہستی
کہ جاں‌گسل انتظار تیرا
کہو کہ مہمان رہ گیا ہے
بس ایک پل کا بیمار تیرا

میرے مسیحا
تیرے سفر میں ہوئی جو روشن
وہ صبحیں راتوں‌ میں‌ ڈھل گئیں‌ ہیں‌
کہ تیرے خوابوں‌کی حدتوں‌ سے
کسی کی آنکھیں‌ ہی جل گئی ہیں‌
میرے مسیحا سے جاکے کہ دو
کہ درد اتنا سوا ہوا ہے
یہ نبض جیسے تھمی ہوئی ہے
یہ وقت جیسے رکا ہوا ہے

میرے مسیحا
سہارے جس کے کٹی ہے ہر شب
وہ آس سینے میں‌ گھٹ رہی ہے
میرے مسیحا ! خبر بھی لو اب!
متاعِ جاں ہے کہ لٹ رہی ہے!
مرے مسیحا !!

Sad Urdu Nazam

وقت کے شکنجوں نے
خواہشوں کے پھولوں کو
نوچ نوچ توڑا ہے
کیا یہ ظلم تھوڑا ہے ؟
درد کے جزیروں نے
آرزو کے جیون کو
مقبروں میں ڈالا ہے
ظلمتوں کے ڈیرے ہیں
لوگ سب لٹیرے ہیں
سکون روٹھ بیٹھا ہے
ذات ریزہ ریزہ ہے
تار تار دامن ہے
درد درد جیون ہے
شبنمی سی پلکیں ہیں
قرب ہے نہ دوری ہے
زندگی ادھوری ہے
اب سمجھ آیا کہ
موت کیوں ضروری ہے

Mohsin naqvi the legend

دل کی لغزش ہے نہ خطا ہے کوئی
بس یونہی روٹھہ گیا ہے کوئی

میں نے رک رک کے تجھے یاد کیا
دل میں جب درد اٹھا ہے کوئی

یا ہوا خاک اڑاتی ہو گی
یا مجھے ڈھونڈ رہا ہے کوئی

موت آتی ہے نہ تو آتا ہے
یہ بھی جینے کی سزا ہے کوئی

اب وہ ملتا ہے تو یوں لگتا ہے
سلسلہ ٹوٹ گیا ہے کوئی

سرخ ہے شہر کی شب کا چہرہ
پھر کہیں قتل ہوا ہے کوئی

اے بچھڑ کر نہ پلٹنے والے
تیرے رستے میں کھڑا ہے کوئی

شل ہوۓ ہاتھہ تو سوچا ہم نے
لوگ کہتے تھے خدا ہے کوئی

رقص کرتے ہیں صبا کے جھونکے
شاخ پر پھول کھلا ہے کوئی

اے صبا یاد دلانا اس کو
اب اسے بھول چکا ہے کوئی

پھر میرے پھول کتابیں میری
راہ میں چھوڑ گیا ہے کوئی

ایک آوارہ پرندہ محسن
وسعت عرض و سما ہے کوئی

محسن نقوی

December

دسمبر چل پڑا گهر سے
سنا ہے پہنچنے کو ہے
مگر اس بار کچهہ یوں ہے
کہ میں ملنا نہیں چاہتا
ستمگر سے
میرا مطلب--- دسمبر سے
کبهی آزردہ کرتا تها
مجهے جاتا دسمبر بهی
مگر اب کے برس ہمدم
بہت ہی خوف آتا ہے
مجهے آتے دسمبر سے
دسمبر جو کبهی مجهکو
بہت محبوب لگتا تها
وہی سفاک لگتا ہے
بہت بیباک لگتا ہے
ہاں اس سنگدل مہینے سے 
مجهے اب کے نہیں ملنا
قسم اسکی... نہیں ملنا
مگر سنتا ہوں یہ بهی میں
کہ اس ظالم مہینے کو
کوئی بهی روک نہ پایا
نہ آنے سے، نہ جانے سے
صدائیں یہ نہیں سنتا
وفائیں یہ نہیں کرتا
یہ کرتا ہے فقط اتنا
سزائیں سونپ جاتا ہے....

شہید محسن نقوی

تیرا لباسِ شریعت وِلا کے دھاگے سے
اگر سِلا ہی نہیں ھے تو پھر صلہ بھی نہیں
عجیب مرض ھے بُغضِ علی ولی،ع، جس میں...
کوئی دوا بھی نہیں ھے کوئی شفا بھی نہیں
اندھیری قبر میں یہ سوچنا کہ اجرِ نبی ،ص،
وہاں دیا جو نہیں تھا یہاں دِیا بھی نہیں
بغیر عشقِ علی تُو نے اِس زمانے میں
طویل عُمر گُزاری ھے اور جیا بھی نہیں
علی ولی ،ع، کے عدوُ اور کیا سزا ہو تیری
نماز پڑھ بھی رہا ھے ہوئی ادا بھی نہیں
شہید محسن نقوی

Jaun Elia



"شاید"


میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں
شاید' جانِ جاں شاید
کہ اب تم مجھ کو پہلے سے زیادہ یاد آتی ہو
ہے دل غمگیں' بہت غمگیں
کہ اب تم یاد دل وارانہ آتی ہو۔
شمیمِ دُور ماندہ ہو
بہت رنجیدہ ہو مجھ سے
مگر پھر بھی
مشامِ جاں میں میرے آشتی مندانہ آتی ہو
جدائ میں بلا کا التفاتِ محرمانہ ہے
قیامت کی خبرگیری ہے
بے حد ناز برداری کا عالم ہے
تمہارے رنگ مجھ میں اور گہرے ہوتے جاتے ہیں
میں ڈرتا ہوں
مرے احساس کے اس خواب کا انجام کیا ہوگا! 
یہ میرے اندرونِ ذات کے تاراج گر'
جذبوں کے بیری وقت کی سازش نہ ہو کوئ
تمہارے اس طرح ہر لمحہ یاد آنے سے
دل سہما ہوا سا ہے
تو پھر تم کم ہی یاد آؤ
متاعِ دل' متاعِ جاں تو پھر تم کم ہی یاد آؤ
بہت کچھ بہہ گیا ہے سیلِ ماہ و سال میں اب تک
سبھی کچھ تو نہ بہہ جاۓ
کہ میرے پاس رہ بھی کیا گیا ہے
کچھ تو رہ جاۓ۔۔۔! 

(جؤن ایلیاء)

Huawei mobile card drivers free download

Huawei Modems Drivers Download


This page contains the list of download links for Huawei Modems. To download the proper driver you should find the your device name and click the download link.
If you could not find the exact driver for your hardware device or you aren't sure which driver is right one, we have a program that will detect your hardware specifications and identify the correct driver for your needs. Please click  to download.

Usay kehna!!!! Qasam lay lo

اسے کہنا !!!
قسم لے لو 
تمہارے بعد جو ہم نے 
کسی کا خواب دیکھا ہو 
کسی کو ہم نے چاہا ہو 
کسی کو ہم نے سوچا ہو 
کسی کی آر زو کی ہو 
کسی کی جستجو کی ہو 
کسی کی راہ دیکھی ہو 
اسے کہنا !!!
قسم لے لو 
کسی کا قرب مانگا ہو 
کسی کو ساتھ رکھا ہو 
کسی کی آس رکھی ہو 
کوئی امید باندھی ہو 
کوئی دل میں اترا ہو 
کوئی تم سے پیارا ہو 
اسے کہنا !!!
قسم لے لو ❤

Bhadur Shah Zafar

Bhadur Shah Zafar was the last mughal emperor who ruled India. He was an emperor and also a poet. He learn poetry from various poets like Ghalib and Zauq and other. He wrote many Ghazals. I am giving you the Ghazals of Bhadur Shah Zafar. To download click at download button given below.










                                     Click Here To Download

Mussadas-e-hali

You should have heared about Mussadas-e-hali and never read it. So let read it today. To download this click download button given below.





                             


                                      Click Here To Download

Kalam-e-Mir Taqi Mir

Mir Taqi Mir was an awesome poet.He wrote many Ghazals and poems but he was famous for his Ghazals. Mir Taqi Mir was a Great poet mainly his ghazals were based on his sad life. Here is one of the ghazals of Mir Taqi Mir   "Kalam-e-Mir Taqi Mir" . To download this click at the download button to download.






                                      Click Here To Download

Urdu poetry

ھیں وعدہ خلافی کے علاوہ بھی ستم اور ،،،،
گر تم نہ خفا هو تو بتا دیں تمھیں اور ؟؟؟
۔
وہ پوچھتے ھیں دیکھئیے یہ طرفہ ستم اور ،،،
کس کس نے ستایا ھے تجھے ایک تو ھم اور ؟؟؟؟
۔
قاصد یہ جواب انکا ھے کس طرح یقیں هو ،،،،
تو اور بیاں کرتا ھے خط میں ھے رقم اور ۔۔۔۔!
۔
موسیٰ سے ضرور آج کوئی بات ہوئی ھے ،،،،
جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور ۔۔۔۔
۔
ہوتا ھے قمر وحدت و کثرت میں بڑا فرق ،،،،
بت خانے بہت سے ھیں نہیں ھے تو حرم اور ۔۔۔۔!۔

پورا دکھ اور آدھا چاند

پورا دکھ اور آدھا چاند 
ہجر کی شب اور ایسا چاند

دن میں وحشت بہل گئی 
رات ہوئی اور نکلا چاند

کس مقتل سے گزرا ہوگا 
اتنا سہما سہما چاند

یادوں کی آباد گلی میں 
گھوم رہا ہے تنہا چاند

میری کروٹ پر جاگ اٹھے 
نیند کا کتنا کچا چاند

میرے منہ کو کس حیرت سے 
دیکھ رہا ہے بھولا چاند

اتنے گھنے بادل کے پیچھے 
کتنا تنہا ہوگا چاند

آنسو روکے نور نہائے 
دل دریا تن صحرا چاند

اتنے روشن چہرے پر بھی 
سورج کا ہے سایا چاند

جب پانی میں چہرہ دیکھا 
تو نے کس کو سوچا چاند

برگد کی اک شاخ ہٹا کر 
جانے کس کو جھانکا چاند

بادل کے ریشم جھولے میں 
بھور سمے تک سویا چاند

رات کے شانے پر سر رکھے 
دیکھ رہا ہے سپنا چاند

سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر 
شبنم تھی یا ننھا چاند

ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا 
اس کی صورت ہجر کا چاند

صحرا صحرا بھٹک رہا ہے 
اپنے عشق میں سچا چاند

رات کے شاید ایک بجے ہیں 
سوتا ہوگا میرا چاند 

wasi shah

ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﯽ

ﻣﺤﺒﺖ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﺭﺷﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮ

ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻓﺮﻕ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﻮ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎ

ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺭﯾﺎ ﮐﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﮨﮯ

ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ

ﻣﺤﺒﺖ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﺎ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﭘﮩﻨﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ
ﮔﺮﯾﺒﺎﮞ ﭼﺎﮎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺩﮐﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﯿﮑﻦ

ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺳﭽﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ
ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ

2 line

ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﮧ ﺷﻌﺮ ﻟِﮑﮭﻨﮯ ﮐﻮ
ﮐِﺘﻨﯽ ﻏﺰﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ

زیادہ پاس مت آنا !


زیادہ پاس مت آنا !!!
زیادہ پاس مت آنا
مَیں وہ تہہ خانہ ھُوں جس میں
شکستہ خواھشوں کے ان گنت آسیب بستے ھیں
جو آدھی شب تو روتے ھیں، پھر آدھی رات ھنستے ھیں
مری تاریکیوں میں
گُمشدہ صدیوں کے گرد آلُود، ناآسُودہ خوابوں کے
کئی عفریت بستے ھیں
مری خوشیوں پہ روتے ھیں، مرے اشکوں پہ ھنستے ھیں
مرے ویران دل میں رینگتی ھیں مکڑیاں غم کی
تمناؤں کے کالے ناگ شب بھر سرسراتے ھیں
گناھوں کے جَنے بچُھو
دُموں پر اپنے اپنے ڈنک لادے
اپنے اپنے زھر کے شعلوں میں جلتے ھیں
یہ بچھو دُکھ نگلتے اور پچھتاوے اُگلتے ھیں !
زیادہ پاس مت آنا !
مَیں وہ تہہ خانہ ھوں جس میں
کوئی روزن، کوئی کھڑکی نہیں باقی
فقط قبریں ھی قبریں ھیں !
کہیں ایسا نہ ھو تُم بھی انہی قبروں میں کھو جاؤ
انہی میں دفن ھو جاؤ
گُلابی ھو، کہیں ایسا نہ ھو تُم زرد ھو جاؤ
محبت کی حرارت کھو کے بالکل سرد ھو جاؤ
سراپا درد ھو جاؤ
سو میرے سادہ و معصُوم ! مُجھ کو راس مت آنا
زیادہ پاس مت آنا !
زیادہ پاس مت آنا !

nadan hon

نادان ہوں____نا سمجھ ہوں_بیکار ہی سمجھو 
دل روتا ہے_ہونٹ ہنستے ہیں_فنکار ہی سمجھو😪😞 م💔

سوچ بنتی ہوئی کاغذ پہ خیالی آنکھیں اس کے کمرے سے چرالیں وہ نرالی آنکھیں






سوچ بنتی ہوئی کاغذ پہ خیالی آنکھیں
اس کے کمرے سے چرالیں وہ نرالی آنکھیں

گرتی اٹھتی ہوئیں پلکوں سے توقف کرتیں
کیا کہوں کتنی مدلل ہیں مثالی آنکھیں
یاد کرنا ہو سبق جیسے ضروری کوئ
میں نے چہرے پہ یونہی اسکے گڑالی آنکھیں
ہم سے دیکھی نہ گئ انکی جو بیباک نظر
اوٹ میں ہاتھ کے پھر ہم نے چھپالی آنکھیں
روز چھپ چھپ کےانھیں دیکھتی رہتی ہوں میں
روز کاغذ پہ بناتی ہوں خیالی آنکھیں
میری باتوں پہ یونہی روٹھ کے کہنا اسکا
رونا روتی ہیں مگر مچھ کا غزالی آنکھیں
ورنہ وہ کھینچ کے لے جاتیں تہہ چشم انھیں
کھینچ کر ہم نے ان آنکھوں سے نکالی آنکھیں
چائے خانے کی کسی میز پہ اک میں اک تو
شام، خاموشی، جھجھک، چائے، متالی، آنکھیں

hudiaba paper mil urdu

1997 میں جب نوازشریف دوسری مرتبہ وزیراعظم بنا تو شریف فیملی کی حدیبیہ پیپرزمل " خسارے " میں چل رہی تھی۔ اس کے کل اثاثہ جات کی ویلیو صرف 9 کروڑ 57 لاکھ جبکہ کل خسارہ 80 کروڑ سے بھی زائد ہوچکا تھا۔ حدیبیہ پیپرز مل کے نام پر پاکستان کے سرکاری بنکوں سے پبلک منی کا کروڑوں کا قرض لیا جاچکا تھا جو کہ خسارے کی وجہ سے ' ڈیفالٹ ' یعنی دیوالیہ ہونے والی کمپنی کی وجہ سے واپس نہیں کیا گیا۔
پھر چند مہینوں بعد اس کمپنی کے کاؤنٹس میں تقریباً ساڑھے 64 کروڑ روپے کی ایک بہت بڑی ٹرانزیکشن نظر آنا شروع ہوئی جسے ' شئیر منی ڈیپازٹ ' کی کیٹیگری میں شو کیا گیا تھا۔
چونکہ حدیبیہ پیپرز مل کو بنایا ہی اسی مقصد سے گیا تھا کہ اس کے ذریعے قرضے لے کر خسارے کی آڑ میں معاف کروا لئے جائیں اور پھر اس کمپنی کے اکاؤنٹس کو استعمال کرتے ہوئے منی لانڈرنگ کے زریعے کالے دھن کو سفید کیا جاسکے، اس لئے نوازشریف نے اپنے تمام فیملی ممبران کو حدیبیہ کا شئیر ہولڈر بنا رکھا تھا جس میں شہبازشریف سے لے کر ان کی والدہ، بھابھیاں اور مریم نواز تک کے نام بینیفشریز میں شامل تھے۔
1996-97 میں کئی گئی وہ ساڑھے 64 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن نوازشریف کے گلے پڑ گئی اور آج اگر پانامہ اور لندن فلیٹس سے بری بھی ہوجائے، حدیبیہ مل اس کے سر پر لٹکتی مستقل تلوار ہے جس سے نہ صرف نوازشریف بلکہ شہبازشریف بھی نااہلی کی زد میں آچکا ہے۔
ویسے تو حدیبیہ مل کی اس ٹرانزیکشن اور طریقہ واردات کی وضاحت اسحاق ڈار نے 2000 میں جمع کرائے گئے اپنے بیان حلفی میں تفصیل سے بیان کردی تھی لیکن آپ لوگوں کی آسانی کیلئے دوبارہ بتائے دیتا ہوں کہ کرپشن کے ان اعلی دماغوں نے کیسے کیسے کارنامے سرانجام دیئے:
1۔ اسحاق ڈار، اس کے اسسٹنٹ اور اسحاق ڈار کی بیوی کے بھانجے کے زریعے لندن میں مقیم قاضی فیملی کے پاسپورٹ کاپیوں کی بنیاد پر کئی بنکوں میں قاضی فیملی کے افراد کے نام پر فارن کرنسی اکاؤنٹس کھولے گئے
2۔ پھر ان اکاؤنٹس میں شریف فیملی کی کالے دھن کی رقم ڈیپازٹ کی گئی جو کہ کئی ملین ڈالرز میں بنتی ہے۔
3۔ پھر سعید احمد نامی اسحاق ڈار کے ایک پرانے پارٹنر اور موجودہ صدر نیشنل بنک کے نام پر ایک پرسنل اکاؤنٹ کھولا گیا۔
4۔ جعلی ناموں سے بنے اکاؤنٹس کے درمیان رقوم کو ٹرانسفر کیا گیا جس سے ایک ہی رقم بار بار ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں ڈالی گئی، پھر وہاں سے تیسرے، چوتھے اور پھر واپس پہلے اکاؤنٹ میں ڈال دی گئی۔ جب کافی ساری ٹرانزیکشنز ہو گئیں تو پھر ان سب اکاؤنٹس سے رقومات نکال کر سعید احمد کے اکاؤنٹ میں ڈیپازٹ کردی گئیں۔ یہ منی لانڈرنگ کا ایک مروجہ طریقہ ہے جسے " لیئرنگ " یا ' تہہ داری ' کہہ سکتے ہیں۔۔ اس کی مدد سے سرکلر ٹرانزیکشنز کرکے ریگولیٹرز اور آڈیٹرز کو چکمہ دیا جاتاہے تاکہ وہ اصل سورس تک نہ پہنچ سکیں۔
5۔ سعید احمد کے اکاؤنٹ میں جب ایک اچھی خاصی بڑی رقم آ گئی تو پھر اس کو بطور زرضمانت استعمال کرکے ہجویری مضاربہ کے نام پر قرض لیا گیا۔ ہجویری مضاربہ اسحاق ڈار کی کمپنی تھی جو کہ باقاعدہ 90 کی دہائی میں اس کے نام کے ساتھ رجسٹرڈ تھی۔
6۔ جب ہجویری مضاربہ کو قرض کی رقم مل گئی تو پھر اس قرض کو حدیبیہ پیپرزمل کے نام پر ٹرانسفر کرکے ساڑھے 64 کروڑ روپے حدیبیہ پیپرزمل کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیئے گئے۔ یوں کالا دھن جو سعید احمد کے اکاؤنٹ میں جمع ہوا، وہ بنک قرض کی شکل میں ایک سفید دھن میں تبدیل ہو کر حدیبیہ کے اکاؤنٹس میں آگیا جہاں سے شریف فیملی نے اسے اپنے ذاتی استعمال کیلئے خرچ کرنا شروع کردیا۔ حدیبیہ خسارے میں ہی چلتی رہی، دیوالیہ ظاہرکرکے حکومت کے زریعے اپنے قرض خود ہی معاف کروا لئے، سعید احمد کے اکاؤنٹ میں موجود زر ضمانت رقم ریلیز ہوگئی جسے فارن کرنسی کی مد میں بیرون ملک ٹرانسفر کردیا گیا ۔ ۔ ۔یوں جو کالا دھن موٹروے اور پیلی ٹیکسی سکیم کے زریعے اکٹھا ہوا تھا، وہ فارن کرنسی کی شکل میں بیرون ملک چلا گیا اور اس پیسے کو دکھا کر قومی بنکوں سے قرض لے کر انہیں معاف بھی کروا لیا گیا۔ کرپشن کے حوالے سے اس جینئس فیملی نے دنیا کو دکھا دیا کہ برکت صرف حلال کی کمائی میں ہی نہیں بلکہ حرام کی کمائی میں بھی ہے، بشرطیکہ یہ نوازشریف کمائے اور اس کا ایڈوائزر اسحاق ڈار ولد چانن دین المعروف بودا سائکلوں والا سکنہ ہیرامنڈی لاہور ہو۔
لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ قدرت ہر مجرم سے کوئی نہ کوئی غلطی ضرور کروا دیتی ہے، نوازشریف سے بھی وہ ساڑھے 64 کروڑ روپے بطور ' شئیر ڈیپازٹ منی ' حدیبیہ کے اکاؤنٹس میں دکھانے کی غلطی ہوگئی اور آج یہ رقم اسے نااہل بھی کروا سکتی ہے اور جیل میں بھی ڈال دے گی ۔ ۔ ۔ نہ صرف نوازشریف بلکہ اس کا بھائی شہبازشریف اور منشی اسحاق ڈار، تینوں بری طرح رگڑے جا سکتے ہیں۔
حضور، یہ ہیں وہ زرائع اور وسائل جن سے نوازشریف نے بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور یہی وہ زرائع ہیں جو انشا اللہ ان کو جیل کی کال کوٹھری میں بھی لے کر جائیں گے!!!

محسن نقوی

__
*حسین*ؑ 

تجھ پر میرا سلام ہو اے دشت بے گیاہ.
میری محبتوں کی عقیدت وصول کر.
آیا ہوں رفعتوں کی تمنا لیے ہوئے.
میرا خلوص میری دعائیں قبول کر.

*کربلا*
اے اجنبی ٹھہر مجھے اتنی دعا نہ دے.
پہلے بھی میری خاک ہے نبیوں سے شرمسار.
میری حدوں سے جلد گزر جا با احتیاط.
میں کربلا ہوں میری تباہی سے ہوشیار.

*حسین*ؑ 
تیرے اجاڑ پن کا میرے پاس ہے علاج.
تجھ کو خبر نہیں کہ میں عیسیٰ  کا ناز ہوں.
میں نے تو بچپنے میں فرشتوں کو پر دیے.
اپنا مرض بتا میں بڑا کارساز ہوں.

*کربلا*ؑ 
میرا یہ مشورہ مسافر پلٹ ہی جا.
شاید تجھے خبر نہیں میرے جنون کی.
گرمی سے جاں بلب ہیں تیرے قافلے کے لوگ.
لیکن میری رگوں میں ضرورت ہے خون کی.

*حسین*
اے نینوا اداس نہ ہو حوصلہ نہ ہار.
لایا ہوں تیرے واسطے پیغام زندگی.
میں خود اجڑ کے تجھ کو بساوں گا اس طرح.
تیری سحر بنے گی میری شام زندگی.

*کربلا*
آئے تھے لوگ مجھ کو بسانے کے شوق میں.
اک پل میں سب کے صبر کے ساغر چھلک گئے.
تو تازہ دم سہی مگر اتنا خیال کر.
میری اداسیوں سے پیمبر بھی تھک گئے.

*حسینؑ *
وہ لوگ انبیاء تھے مگر میں امام ہوں.
ممکن نہیں کہ دید کے بدلے شنید لوں.
تجھ کو سنوارنے کی تمنا بھی ضد بھی ہے.
اب طے یہ ہو چکا ہے تجھے میں خرید لوں.

*کربلا*
ہر چند لا علاج ہیں میری اداسیاں.
لیکن یہ حوصلہ یہ محبت کمال ہے.
نسخے سبھی درست سہی خواہشیں بجا.
میں کیا کروں کہ تو کوئی زہرا کا لال ہے.

*حسینؑ *
آہستہ بول اتنی دلیلیں نہ دے مجھے.
گستاخیاں نہ کر کہ شہہ مشرقین ہوں.
لے اب لگا رہا ہوں تیری خاک پر خیام.
اتنا بھڑک رہی ہے تو سن میں حسین ہوں.

محسن نقوی

فوزی کو اس کے مقام پر اپنی بھی کچھ خبر نہیں کانٹوں پہ کھینچ لے گئے ہمکو سراب ریت کےفوزیہ شیخ

اترے ہیں میرے شہر میں ایسے عذاب ریت کے
آنکھیں تمام ریت کی آنکھوں میں خواب ریت کے
چلتی  ھے   رات بھر  یہاں  باد ِ غبار ِ  تشنگی ۔
کھلتے ہیں شاخِ  د ل پہ بھی اجڑے گلاب ریت کے
لکھے   ہوا  نے ساحلوں کے بے مراد  ورق   پر
کتنے سوال  آ ب کے  کتنے   جواب  ریت کے ۔۔
صحرا ئے  زندگی   میں  اب  سایا نہیں  شجر نہیں
پیروں میں آبلے  مرے سر  پہ   سحاب   ریت کے
کیسے بچاؤں آندھیوں سے اپنے  اس  وجود کو
خیمہ  ءِ جان ریت کا  '، اس پہ طناب ریت  کے
فوزی  کو اس کے مقام  پر  اپنی بھی کچھ خبر نہیں
کانٹوں پہ  کھینچ  لے گئے ہمکو  سراب  ریت  کے
فوزیہ شیخ

میں نے دیکھا تھا ، اُن دِنوں میں اُسے۔۔

میں نے دیکھا تھا اُن دِنوں میں اُسےجب وہ کھلتے گلاب جیسا تھااُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھیاُس کا لہجہ شراب جیسا تھااُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹااُس کا رُخ ماھتاب جیسا تھالوگ پڑھتے تھے خال و خد اُس کےوہ ادب کی کتاب جیسا تھابولتا تھا ، زبان خوشبو اُس کیلوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسےساری آنکھیں تھیں آئینے اُس کےسارے چہرے میں انتخاب تھا وہسب سے گھل مل کے اجبنی رھناایک دریا نما ، سراب تھا وہخواب یہ ھے ، کہ وہ حقیقت تھایہ حقیقت ھے ، کوئی خواب تھا وہدل کی دھرتی پہ آسماں کی طرحصورت سایہ و سحاب تھا وہاپنی نیندیں اُسی کی نذر ھوئیںمیں نے پایا تھا رتجگوں میں اُسےجب وہ ھنس ھنس کے بات کرتا تھادل کے خیمے میں رات کرتا تھارنگ پڑھتے تھے آنچلوں میں اُسےیہ مگر دیر کی کہانی ھےیہ مگر دُور کا فسانہ ھےاُس کے میرے ملاپ میں حائلاب تو صدیوں بھرا زمانہ ھےاب تو یوں ھے حال اپنا بھیدشتِ ھجراں کی شام جیسا ھےکیا خبر اِن دِنوں وہ کیسا ھے ؟میں نے دیکھا تھا ، اُن دِنوں میں اُسے۔۔!!میں نے دیکھا تھا ، اُن دِنوں میں اُسےمین نے دیکھا تھا اُن دِنوں میں اُسےمیں نے دیکھا تھا ، اُن دِنوں میں اُسے

کچھ تیرا ذکرٍ خاص ہو جائے آج طبیعت اٌداس ہو جائے

کچھ  تیرا  ذکرٍ خاص ہو جائے 
آج  طبیعت  اٌداس   ہو  جائے

وہ تیرے حسنٍ نازنیناں  پہ 
دٍلکشی اٍک  لباس  ہو  جائے

ہائے  وہ  سٌرمگیں اکھیاں 
گہرے بادل کی پیاس ہو جائے

وہ تیری مخملی سی آہٹ  پہ
دل   زرا  اور  پاس  ہو  جائے 

ترک   کردوں  وحشتیں  اپنی
تٌو اگر  محفل  شناس  ہو  جائے

ہم نا سمجھے تیری نظروں کا تقاضا کیا ہے کبھی جلوہ کبھی پردہ----- یہ تماشا کیا ہے

ہم نا سمجھے تیری نظروں کا تقاضا کیا ہے 
کبھی جلوہ کبھی پردہ----- یہ تماشا کیا ہے

مجھہ کو مدہوش سا کر رکھا ہے تیری آنکھوں نے 
ورنہ ساقی تیرے----- مے خانے میں رکھا کیا ہے

دیکھ لے لیلی تیرے مجنوں کا کلیجہ کیا ہے 
خاک میں مل کے بھی کہتا ہے بگڑا کیا ہے

یہ صراحی سا بدن لے کر میرے سامنے نا آ 
میں شرابی ہوں---- شرابی کا بھروسہ کیا ہے

اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں سے چھونے نا دے 
ایک دو گھونٹ سے------- بوتل کا بگڑتا کیا ہے ،...!!!

میں زخم زخم بدن لے کے چل دیا محسن وہ جب بھی اپنی قبا پر کنول سجا کے ملا . . .محسن نقوی

نظر میں زخم تبسم چھپا چھپا کے ملا
خفا تو تھا وہ مگر مجھ سے مسکرا کے ملا

وہ ہمسفر کے میرے ظنز پے ہنسا تھا بہت
ستم ظریف مجھے آئینہ دکھا کے ملا

میرے مزاج پہ  حیران ہے زندگی کا شعور
میں اپنی موت کو اکثر گلے لگا کے ملا

میں اس سے مانگتا کیا خون بہا جوانی کا
کے وہ بھی آج مجھے اپنا گھر لٹا کے ملا

میں جس کو ڈھونڈ رہا تھا نظر کے رستے میں
مجھے ملا بھی تو ظالم نظر جھکا کے ملا

میں زخم زخم بدن لے کے چل دیا محسن 
وہ جب بھی اپنی قبا پر کنول  سجا کے ملا . . .

محسن نقوی

*سموگ کیا ہے**القرآن کیا کہتا ہے*

*سموگ کیا ہے*
*القرآن کیا کہتا ہے*
سوشل میڈیا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بتائی جارہی ہیں.
کوئی کہہ رہا ہے یہ انڈیا والوں نے فصلوں کی باقیات کو آگ لگائی ہوئی ہے جس کے باعث ہے. کوئی اسے گلوبل وارمنگ کا شاخسانہ کہہ رہا ہے.
اور کوئی اسے بڑھتی ہوئی انڈسٹریل آلودگی.
لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہہ جنگ عظیم دوم ویت نام میں چلنے والے نیپام بم (ایسا بم جو وار ہیڈ کے پانچ سو میٹر میں آگ لگا سکتا تھا) ایسی آلودگی اور سموگ کیوں نہ پھیلا سکا.
*اندازہ کیجیے* پانی کا نقطہ کھولاؤ 100 درجہ حرارت ہے جبکہ نیپام بم 800 سے 1200 درجہ حرارت کی آگ برساتا اور آگ لگنے کی رفتار 70 میل فی گھنٹہ جس کی لپیٹ میں آنے والے انسان جانور اور املاک منٹوں میں راکھ اور دھوؤیں کا ڈھیر ہو جاتے. نیپام بم کا وہ دھواں جس میں کاربن مونو آکسائیڈ اور نفتھینک پلمیٹک تیزآب اور بہت سے آگ پکڑنے والے زہریلے مادے ہوتے تھے ایسا سموگ پیدا نہ کر سکے.
*کیوں*
آجکل میڈیا پر لوگ دنیاوی چیزوں سے اسے تشبیع دے کر ڈرا رہے ہیں مگر افسوس صد افسوس ہمیں *آلودگی* اور *انڈیا* سے  تو ڈرایا جا رہا ہے.
مگر *اللہ* اور اس کے فرامین کے بارے ہم نابلد ہیں.
ہم قرآن کو بھلا چکے ہیں ورنہ آج ہم کو انڈیا کی لگائی آگ سے زیادہ فکر اللہ کی طرف سے دہکائی گئی جہنم کی ہوتی.
اللہ نے سورۃ الدخان میں فرمایا.
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ (10)
سو اس دن کا انتظار کیجیے کہ آسمان ظاہر دھواں لائے۔
يَغْشَى النَّاسَ ۖ هٰذَا عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ (11)
جو لوگوں کو ڈھانپ لے، یہی دردناک عذاب ہے۔
*یاد کرو* گزشتہ سال 2016  بھی یہی عذاب تھا مگر کچھ عرصہ کیلئے ٹال دیا گیا. اور اس عذاب میں بیماریاں اور حادثات ہیں. تب بھی ہم نہیں سمجھ رہے.
ارشاد باری تعالیٰ ہے..!
اِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيْلًا ۚ اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَ (15)
ہم اس عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹا دیں گے مگر تم پھر وہی کرنے والے ہو۔
*اور غور کرو* آج پھر ہم اس عذاب میں کس طرح مبتلا ہو چکے ہیں. مگر پھر بھی ہمیں ماسک لگا کر بچ نکلنے کی فکر ہے نہ کہ اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے ڈھانپنے کی.
ہو سکے تو اپنا محاسبہ کریں اور تمام اہلِ اسلام کیلئے دعا کریں. اللہ سب کو ہدایت دے اور اہلِ اسلام کو پھر سے یکجا کر دے

سرائیکی نظم کَڈاھیں وَقت ڈیو.... ؟

سرائیکی نظم 
کَڈاھیں وَقت ڈیو.... ؟ 
سَائیں وَقت ڈیو...... ؟ 
کِتھائیں وقت ڈیو....؟ 
       ھُن شام ھِ 
سَبھائیں وقت ڈیو...؟

تُہاڈیاں صِفتاں کروں...! 
رُوح مُعَطرّ کروں...!

پُرانڑیاں یَاداں سَاریاں...! 
رَل کے تُوں مَیں اَساں...! 
اِیویں ڈھالوں بیٹھے...! 
وَل اُسَارُوں بیٹھے.....! 
اَکھیں ٹَھارُوں بیٹھے.....!

پَل مِل تَاں گِھنوں 
لہذا کِھل تَاں گِھنوں
سَاہ پَرایا جو ھِ ...! 
سُدھ نئیں نِکھڑیا وَنجے...!

رَاند مُکی وَیسی....! 
سَانجھ مُکی ویسی.....!

دَاریاں کَر تَاں گِھنوں....! 
زَاریاں کَر تَاں گِھنوں....! 
پیریں مَر تَاں گِھنوں....!

سَائیں وَقت ڈیو .......؟
سَائیں وَقت  ڈیو........؟

محسنؔ کی موت اِتنا بڑا سانحہ نہ تھی ..... اِس سانحہ پہ بال ترے رائیگاں کھُلے

بول اے سکوتِ دل کہ درِ بے نشاں کھُلے
مجھ  پرکبھی  تو  عقدہ  ہفت  آسماں  کھُلے

یوں  دل  سے ہمکلا م ہوئ  یادِ  رفتگاں!
جیسے اِک اجنبی سے کوئ  رازداں  کھُلے!

  سہمی کھڑی ہیں خوفِ تلاتم سے کشتیاں
موجِ  ہوَا  کو ضد کی  کوئ  بادباں  کھُلے

وہ آنکھ نیم وا ہو تو دِل پھر سے جِی اُٹھیں
وہ  لب  ہلیں تو قفلِ  سکوتِ جہاں  کھُلے

وہ جبر ہے کہ سوچ بھی لگتی ہے اجنبی 
ایسےمیں کس سے بات کریں،کیازباں کھُلے؟

  جتنا  ہوا  سے  بند ِ قبا  کھُل  گیا  تِرا 
ہم لوگ اِس قدربھی کِسی سےکہاں کھُلے؟

  محسنؔ  کی  موت  اِتنا  بڑا  سانحہ  نہ تھی
  اِس  سانحہ  پہ  بال  ترے  رائیگاں  کھُلے

اردو نظم!!!!!!تم کو سب کچھ یاد ہی ہو گا

تم کو سب کچھ یاد ہی ہو گا
-
یاد ہے اکثر تم کہتی تھیں
جب میں اپنی سانسوں کی
اور دھڑکن کی ترتیب لگاؤں
کتنا سادہ کتنا پیارا
نام تمہارا بن جاتا ہے
میں گھنٹوں سنتی رہتی ہوں
یاد ہے جب تم
میرے سینے پر سر رکھ کے 
میری سانس سنا کرتیں
یا اپنا نام سنا کرتی تھیں
یاد ہے اک دن
’’سانوں اک پل چین نہ آوے‘‘
میری فرمائش پر تم نے
نصرت کا یہ گیت سنا تھا
اور گھنٹوں محسوس کیا تھا
(شاید مجھ کو)
یاد ہے تم کو جب تم کالے رنگ کے 
کپڑے پہنا کرتیں، تو یہ کہتیں
دیکھو میں کچھ خاص نہیں ہوں
جانے کیوں تیری آنکھوں کو
میں اتنی سندر لگتی ہوں!
یہ تو تم کو یاد ہی ہو گا
جب تم مجھ سے یہ کہتیں تھیں
آپ کے جیسا کوئی نہیں ہے
آپ بہت ہی اچھے ہیں نا
ایسے منہ مت پھیرا کیجئے!
دیکھیں میں دل سے کہتی ہوں
مجھ سے چاہے اپنے سر کی
ایک نہیں، دو چار نہیں تو
جتنی چاہے قسمیں لیجے
میں یہ بالکل سچ کہتی ہوں
اب دوری نہ سہہ پاؤں گی
آپ سے دور نہ رہ پاؤں گی
مجھ کو چھوڑ کے مت جائیے گا
میری خاطر رُک جائیے گا
مجھ کو چاہے جیسے رکھیئے
آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے بس
اور کسی کا سایا بھی نہ
اپنے کے پاس کبھی لاؤں گی
آپ سے دور نہ رہ پاؤں گی
یاد ہے مجھ سے جب کہتی تھیں
آپ بھی کتنے سادہ ہیں نا
اپنی عمر کے لڑکے دیکھیں
تھوڑا سا تو فیشن کیجئے
بالوں کا وہ ’کٹ‘ بنوائیں
کالر والی پرپل شرٹ میں
آپ کمال لگیں گے سچ میں
کتنی ساری باتیں تھیں ناں
تم کو تو سب یاد ہی ہوگا
پھر بھی مجھ کو یوں لگتا ہے
مجھ کو ٹھیک سے یاد نہیں ہے!
اک مدت جو بیت گئی ہے
میرے ہاں تو یہ عالم ہے
پہروں سوچوں
گھنٹوں تم کو یاد کروں تو
تب جا کر ہی
دھندلا دھندلا سا اک چہرہ
یاد آتا ہے ہلکا ہلکا
وہ بھی اتنی مشکل سے کہ
بیچ میں اتنے زخمی لمحے 
درد جگانے آجاتے ہیں
ڈر جاتا ہوں
اور وہ دھندلا عکس بھی مجھ سے
کھو جاتا ہے!
جب سے قسمیں، وعدے سارے
بھول گئی ہو، تب سے جاناں
یوں لگتا ہے
سارے ہوش ہوئے لاوارث
ہر احساس کاخون ہوا ہے
میری سانسیں جن میں اکثر
اپنا نام سنا کرتیں تھیں
بے ترتیبی کے عالم میں
ساری سانسیں بکھر گئی ہیں
نصرت کا وہ گیت تو اب بھی
چین نہیں آنے دیتا ہے
کالے کپڑے جب دیکھوں تو
یوں لگتا ہے 
جیسے اک بے نام محبت
یا شاید گمنام محبت 
ہجر کا ماتم کرتے کرتے
گہرے سوگ میں ڈوب گئی ہے
میرے سر کی قسمیں ٹوٹیں
اور کسی کے سائے سے ڈرتے
میرا سایہ بھول گئی ہو
مجھ کو ایسے تیز ہوا میں
جلتے بجھتے اک بے چارے
دیپ کی مانند چھوڑ گئی ہو
دیکھو میں کتنا اچھا تھا
میرے جیسا کوئی نہیں تھا
تم کہتیں تھیں!
یاد ہی ہو گا!
پھر بھی رشتہ توڑ گئی ہو!
دیکھو عرصہ بیت گیا ہے
سارے فیشن بدل گئے ہیں
اب یہ بھی معلوم نہیں ہے
میں اب کیسے بال بناؤں؟
کیسے کیسے کپڑے پہنوں؟
بال بھی اب تو بکھر گئے ہیں
سارے کپڑے اُدھڑ گئے ہیں
تم کو تو سب بیتی باتیں
یاد ہی ہوں گی
مجھ کو ٹھیک سے یاد نہیں ہیں
مجھ کو تو اب ہجر زدہ دیوانوں جیسی
ٹھنڈی ٹھنڈی ،پُر اسرار سی
آہیں بھرنا آتی ہیں بس
کچھ لکھوں تو 
درد قلم سے باہر آ کر
خود کاغذ پر گر جاتا ہے
تیری باتیں بھول گیا ہوں
غم مجھ سے باتیں کرتے ہیں
اب کوئی بھی قسم اُٹھائے
یوں لگتا ہے یہ جھوٹا ہے
جانے کیسے حال میں ہوں میں
خود بھی تو معلوم نہیں ہے
لیکن یہ سب تم کو جا کر کون بتائے
ہو سکتا ہے تم بھی سب کچھ بھول چکیں ہوں
یہ تو اک مفروضہ ہے نا
’’کہ سب تم کو یاد ہی ہوگا‘‘
لیکن جاناں میری جانب
بے خبری کا یہ عالم ہے
یادیں ساتھ نہیں دیتیں اب
باتیں یاد نہیں رہتیں اب!!!