December Poetry

آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے میں
کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں
رفتگاں کےبکھرتے سالوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں
دھیان کی سیڑھیوں میں کیا کیا عکس
مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک کی لائنیں لگاتے ہیں
ہر دسمبر کے آخری دن میں
ہر برس کی طرح اب بھی
ڈائری ایک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گرد ماضی سے اٹ گئے ہونگے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سمٹ گئے ہونگے
ہردسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری ،دوست دیکھتے ہونگے
ان کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نشاں صفحوں سے
نام میرا بھی
کٹ گیا ہوگا

امجد اسلام امجد

December


دسمبر 

کتنا مشکل ہے صبر کرنا
نہ کوئی جینا نہ کوئی مرنا
تم کو یاد ہے ؟
وہ شام فرقت
میں نے رو کر تمہیں کہا تھا
کہیں بھی جانا
کہیں بھی رہنا 
مگر دسمبر کی سرد راتوں
میں لوٹ آنا
نہیں نہ آئے
ٹھہر ٹھہر کر
ہر ایک لمحہ مجھے ستائے
ہر ایک کروٹ پہ تم کو ڈھونڈوں
اتنی ہمت بھی تو نہیں ہے
کہ زہر پی لوں
نیم شب کو امڈنے والی
خنک ہوائیں
بدن جلائیں
میرے دل کے تمام نغمے
تمہیں بلائیں
کپکپاتے لبوں کی لرزش
ماند پڑنے لگی ہے آ جا
زندگی کو تری جدائی
سے ہار ہونے لگی ہے آ جا
بپھر رہا ہے
بیمار آنکھوں میں اک سمندر
مجھے یہ ڈر ہے
نہ آخری ہو یہی دسمبر

( معصومہ رضا )      😢😢😢😢😢

آرزوئیں فضول ہوتی ہیں 

آرزوئیں فضول ہوتی ہیں 
گویا کاغذ کے پھول ہوتی ہیں 

ہر کسی نام پر نہیں رکتیں 
دھڑکنیں با اصول ہوتی ہیں 

پتھروں کے خداؤں کے آگے 
التجائں فضول ہوتی ہیں 

کوئی میرے لبوں کو بھی لا دے 
جو دعائیں قبول ہوتی ہیں 

خواب ٹوٹیں یا بکھر جایں 
قیمتیں کب وصول ہوتی ہیں¡

رحمان فارس

معلُوم ھے جناب کا مطلب کچھ اَور ھے !
میری لُغَت میں آب کا مطلب کچھ اَور ھے

تُو نے بہت خراب کیا ھے مُجھے مگر
اس شعر میں خراب کا مطلب کچھ اَور ھے

یہ عارضی طلَب ھے، اِسے عشق مت سمجھ
لمحاتی اضطراب کا مطلب کچھ اَور ھے

تسلیم ھے کہ مَیں نے دیا ھے اُسے گُلاب
لیکن یہاں گُلاب کا مطلب کچھ اَور ھے !

صحرا نے کر تو دی ھے مُجھے گھر کی پیشکش
اس خانماں خراب کا مطلب کچھ اَور ھے

تعبیر زندگی ھی بتائی گئی مُجھے
حالانکہ میرے خواب کا مطلب کچھ اَور ھے

صحرا کے ھاں بھنور کے معانی ھیں مُختلف
دریا کے ھاں سراب کا مطلب  کچھ اَور ھے !

فرھنگِ عشق دیکھ کے آیا ھُوں مَیں ابھی
اُس میں گُنہ ثواب کا مطلب کچھ اَور ھے

اس فتنہ گر ھجُوم کو سمجھائیے، جناب !
قوموں میں انقلاب کا مطلب کچھ اَور ھے

سچ ھے کہ ماھتاب سے کرتا ھُوں عشق مَیں
ھاں لفظِ ماھتاب کا مطلب کچھ اَور ھے !

گو وصل کے سوال پہ انکار ھوگیا
خوش ھُوں کہ اس جواب کا مطلب کچھ اَور ھے

ھوتی ھے اَور طرح غریبوں کی چھان بین
شاھوں کے احتساب کا مطلب کچھ اَور ھے

سوھنی کے ساتھ ڈُوب گیا مَیں چناب میں
لیکن یہاں چناب کا مطلب کچھ اَور ھے

ناراض عشق ! حُسن کی مجبوریاں سمجھ
محفل میں اجتناب کا مطلب کچھ اَور ھے

ساقی کی پیشکش نہیں محدُود جام تک
اس دعوتِ شراب کا مطلب کچھ اَور ھے

کچھ اَور ھے کتاب کو کرنا کسی کے نام
کتبے پہ انتساب کا مطلب کچھ اَور ھے

مقصد فقط چُھپانا نہیں خدّوخال کو
فارس میاں ! حجاب کا مطلب کچھ اَور ھے

رحمان فارس

شاعرہ ___ ادا جعفری

آخری  ٹِیس،  آزمانے  کو...
جی  تو  چاہا  تھا،  مسکرانے  کو___

یاد  اتنی  بھی،  سخت  جاں  تو  نہیں...
اِک  گھروندہ  رہا  ہے،  ڈھانے  کو___

سَنگ  ریزوں  میں،  ڈھَل  گئے  آنسو...
لوگ  ہنستے  رہے،  دِکھانے  کو___

زخمِ  نغمہ  بھی،  لَو  تو  دیتا  ہے...
اِک  دنیا  رِہ  گئی، جلانے  کو___

جَلانے  والے  تو،  جَل  بُجھے  آخِر...
کون  دیتا  خبر،  زمانے  کو___

کِتنے  مجبور،  ہو  گئے  ہونگے...
آخری  بات  مُنہ  پہ،  لانے  کو___

کُھل  کے  ہنسنا  تو،  سب  کو  آتا  ہے...
لوگ  ترستے  رہے،  اِک  بہانے  کو___

ریزہ  ریزہ،  بکھر  گیا  اِنسان...
دِل  کی  ویرانیاں،  جتانے  کو___

حسرتوں  کی،  پناہ  گاہوں  میں...
کیا  ٹھِکانے  ہیں،  سَر  چُھپانے  کو___

ہاتھ  کانٹوں  سے،  کر  لیئے  زخمی...
پھول  بالوں  میں  اِک،  سجانے  کو___

آس  کی  بات  ہو،  کہ  سانس ،  ادا...
یہ  کھِلونے  ہیں،  ٹوٹ  جانے  کو_____!!!

شاعرہ ___ ادا جعفری

saraiki

ساکوں چھوڑ ڈتی
کوئ مسئلہ نئیں
ویسوں وقت نبھا
توں وسدا رہ..
ساڈے لیکھ دے وچ
جے روون ھے،
ساکوں روز روا
تو وسدا ره
ساڈی بےشک کوئ
پرواہ نہ کر،
ڈیسوں روز دعا
توں وسدا ره
تیکوں ڈیکھ تے
"سجن"جیندے ھاں،
لاوی بخت خدا
توں وسدا ر

جون ایلیاء

انگلياں پھير ميرے بالوں ميں
ميرا يہ دردِ سر نہيں جاتا

کيوں ميرے آس پاس گھومتا ہے
کيوں يہ نشہ اُتر نہيں جاتا

سب تيری انجمن ميں بيٹھے ہيں
کوئی بھی شخص گھر نہيں جاتا

يوں پڑا ہوں تمہاری يادوں ميں
جس طرح کوئی مر نہيں جاتا

جون ايلياء

جون ایلیاء

انگلياں پھير ميرے بالوں ميں
ميرا يہ دردِ سر نہيں جاتا

کيوں ميرے آس پاس گھومتا ہے
کيوں يہ نشہ اُتر نہيں جاتا

سب تيری انجمن ميں بيٹھے ہيں
کوئی بھی شخص گھر نہيں جاتا

يوں پڑا ہوں تمہاری يادوں ميں
جس طرح کوئی مر نہيں جاتا

جون ايلياء

پھر یوں ہوا کہ

پھر یوں ہوا کہ وقت کے تیور بدل گئے
پھر یوں ہوا کہ راستے یکسر بدل گئے
پھر یوں ہوا کہ منزلیں دشوار ہو گئیں
پھر یوں ہوا کہ خواہشیں مسمار ہو گئیں
پھر یوں ہوا کہ حشر کے سامان ہو گئے
پھر یوں ہوا کہ شہر بیابان ہو گئے
پھر یوں ہوا کہ گرد سے آئینے اَٹ گئے
پھر یوں ہوا کہ آنکھ میں دریا سمٹ گئے
پھر یوں ہوا کہ رابطے سورج سے کٹ گئے
پھر یوں ہوا کہ رنگ گلابوں سے ہٹ گئے
پھر یوں ہوا کہ پاؤں سے صحرا لپٹ گئے
پھر یوں ہوا کہ یار گھروں کو پلٹ گئے
پھر یوں ہوا کہ لوگ قبیلوں میں بٹ گئے
پھر یوں ہوا کہ رنگتِ عارض جھلس گئی
پھر یوں ہوا کہ زلف ہوا کو ترس گئی
پھر یوں ہوا کہ ٹوٹ کے شیشے بکھر گئے
پھر یوں ہوا کہ اپنے سبھی خواب مر گئے
پھر یوں ہوا کہ راحتیں کافور ہو گئیں
پھر یوں ہوا کہ بستیاں بے نور ہو گئیں
پھر یوں ہوا کہ غلبۂ آفات ہو گیا
پھر یوں ہوا کہ قتلِ مساوات ہو گیا
پھر یوں ہوا کہ ظلمتیں ہمدوش ہو گئیں
پھر یوں ہوا کہ صبحیں سیہ پوش ہو گئیں

Nasir Kazmi Urdu poet

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست
تو مصیبت میں عجب یاد آیا
دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر تیرا وعدہ شب یاد آیا
تیرا بھولا ہوا پیماِن وفا
مر رہیں گے اگر اب یاد آیا
پھر کئی لوگ نظر سے گزرے
پھر کوئی شہر طرب یاد آیا
حاِل دل ہم بھی ُسناتے لیکن
جب وہ ُرخصت ہوا تب یاد آیا
بیٹھ کر سایہ ُگل میں ناصر
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

ناصر کاظمی

آرمی چیف کو ملکی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ بلایا گیا۔

آرمی چیف کو ملکی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ بلایا گیا۔ سینٹ کو کئی معاملات پر تشویش تھی جنکا تسلی بخش جواب دیا گیا۔ چند ایک پیش خدمت ہیں۔

اندرونی سیکیورٹی کے لیے کیا گیا اب تک ؟

" آپریشن ضرب عضب، آپریشن ردالفساد اور نیشنل ایکشن پلان پر پاک فوج اپنے حصے کام کام بخوبی نمٹایا۔ صرف آپریشن ردالفساد کے تحت اب تک پنجاب میں 13011 اور خیبرپختونخوا اور فاٹا میں 1249 کومبنگ اورانٹیلی جنس آپریشن کیے گئے۔ ان آپریشنز میں ہزاروں ٹن باردو، 19000 ہتھیار اور سینکڑوں دہشت گرد مارے اور پکڑے گئے۔ نتیجے میں ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی"

آرمی عدالتوں نے اب تک کیا کیا؟

"فوجی عدالتوں نے اب تک 274 مقدمات کا فیصلہ کیا۔ 161 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی جن میں سے 56 مجرموں کو پھانسی دی گئی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد فوجی عدالتوں کو 160 مقدمات بھیجوائے گئے، جن میں سے 33 پر فیصلہ سنایا گیا، 8 کو سزائے موت اور 25 کو قید کی سزائی دی گئی "

باہر کے دورے کیوں کیے؟

"اہم ممالک کے دورے فوجی سفارتکاری کاحصہ ہیں، علاقائی ممالک سے تعلقات میں بہتری کیلئے دورے معاون ثابت ہوئے. افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتے، بارڈرمینجمنٹ پاک افغان سرحدکومحفوظ بنانے کے لئے نا گزیر ہے"

اسلامی اتحاد کیوں بنایا گیا ہے؟

"41 اسلامی ممالک کا اتحاد کسی کے خلاف نہیں ، ابھی اس کے ٹی او آرز طے ہونا باقی ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کی لڑائی نہیں ہوگی اور نہ ہی ہم ایسا ہونے دیں گے ان شاءاللہ "

دھرنے میں کیوں دخل اندازی کی کیا دھرنے کے پیچھے آپ تھے؟

" دھرنے میں وزیراعظم کے حکم پر مداخلت کی اور وہ تمام اقدامات سے باخبر رہے۔ دھرنے کے پیچھے پاک فوج ثابت ہوئی تو میں استعفی دے دونگا"

آپ بجٹ کا بڑا حصہ لے جاتے ہیں؟

" پاک فوج کو کل بجٹ کا صرف 18 فیصد ملتا ہے جس میں سے آٹھ آعشاریہ تین فیصد بری فوج کو جاتا ہے۔ فوج کے تحت چلنے والے ادارے 177 ارب روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں جو سب سے زیادہ ہے"

۔۔۔۔۔۔۔۔ لوجی ۔۔۔۔۔ ہوگئی تسلی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟

اب جناب چیرمین سینٹ صاحب پاکستان میں کچھ اور معاملات بھی ایسے ہیں جن پر آپ کو نہ صرف تشویش ہونی چاہئے بلکہ ذمہ داروں کو بھی طلب کرنا چاہئے ۔۔۔۔۔ مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیشنل ایکشن پلان میں سول حکومت کے ذمے 17 نقاط میں سے کسی ایک پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا،

عدالتوں میں 11000 سے زائد دہشت گردوں کے مقدمات زیر التوا ہیں اور تقریباً تمام پکڑے جانےوالے سہولت کار ضمانتیں پا کر رہا ہوچکے ہیں،

چار سال تک پاکستان کا وزیرخارجہ ہی مقرر نہیں کیا گیا، جسکا ناقابل تلافی نقصان ہوا، کل بھوشن اور کشمیر پر مسلسل خاموشی اختیار کیے رکھی،

35 ارب ڈالر قرضہ، موٹر ویز اور اہم قومی عمارات گروی رکھی گئیں، بجٹ کا خسارہ 32 ارب ڈالر ہوچکا ہے اور ریاست دیوالیہ ہونے کے قریب ہے،

کسی ایک ڈیم پر کام نہیں ہوا، بجلی کے تمام بڑے منصوبے ناکام بنا دئیے گئے،

2 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کو ھیپائٹس سی اور صرف سندھ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو ایڈز ہے،

60 فیصد پاکستانی آرسینک ملا پانی اور 95 فیصد پاکستانی فارمیلین ملا دودھ پی رہے ہیں،

قبول اسلام پر پابندی لگائی گئی، ختم نبوت کے خلاف سازش کی گئی،

کیا ان کے ذمہ داروں کو طلب کرنے کی زحمت کرینگے؟؟؟؟؟/

جناب عالی   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سپاہ سالار نے یہ کہہ کر آپ سمیت تمام جمہوریوں کے منہ پہ زوردار تھپڑ مارا ہے کہ ۔۔۔۔ " پالیسی آپ بنائیں عمل ہم کرینگے " ۔۔۔

کیا آپ بتانا پسند کرینگے کہ امریکہ، افغانستان، ایران اور انڈیا کے حوالے سے درحقیقت آپ نے کیا پالیسی بنائی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

Mohsin Naqvi The Legend

مَیں کیوں نہ ترکِ تعلق کی ابتدا کرتا
وہ دُور دیس کا باسی تھا کیا وفا کرتا؟

وہ میرے ضبط کا اندازہ کرنے آیا تھا
مَیں ہنس کے زخم نہ کھاتا تو اور کیا کرتا؟

ہزار آئینہ خانوں میں بھی مَیں پا نہ سکا
وہ آئینہ جو مجھے خود سے آشنا کرتا

درِ قفس پہ قیامت کا حبس تھا ورنہ
صبا سے ذکر تیرا مَیں بھی سُن لیا کرتا

میری زمیں تُو اگر مجھ کو راس آ جاتی
مَیں رفعتوں میں تجھے آسمان سا کرتا

غمِ جہاں کی محبت لُبھا رہی تھی مجھے
مَیں کس طرح تیری چاہت پہ آسرا کرتا؟

اگر زبان نہ کٹتی تو شہر میں "محسن"
مَیں پتھروں کو بھی اِک روز ہمنوا کرتا

محسن نقوی

Mid night of December

!!!!!! مڈ نائٹ آف دسمبر !!!!!!
سدا عشّاق کی بستی میں ہے
شدّاد دسمبر
کبھی اُحد کبھی کوفہ کبھی بغداد
دسمبر
یہ خون_دل جلانے میں کئی کشتوں کا
ماہر ہے
وراثت میں چنگیزی ہے کئی پشتوں کا
ماہر ہے
خواہش غصب کرتا ہے دلوں میں
دہشت گردی سے
مزہ لیتا ہے لوگوں کا عجب اک وحشت
گردی سے
کبھی یخ بستہ سردی سے کبھی پنہاں
آزردی سے
بصورت دیوداسی سے کبھی گہری
اداسی سے
کبھی تلخی کی کرمر سے کبھی پتوں
کی چرمر سے
کبھی بستر کے تانے سے کبھی آنے
بہانے سے
زہر کی بانٹ کا حاتم بہت مخمور ہے
شائد
رحم کی چھوٹی بستی سے یہ کوسوں
دور ہے شائد
ازل سے ظلم ڈھانے پر یہی معمور
ہے شائد
کہ خون_دل کی بھٹی کا کوئی مزدور
ہے شائد
غرض اس کی حکومت میں صلیبی
جنگیں ہوتی ہیں
وہیں پہ آ پہنچتا ہے جہاں امنگیں
ہوتی ہیں
ستانے کے سبھی موقعے اسے ہم
زاد ہوتے ہیں
کئی نسخے اسے ہر سال زبانی یاد
ہوتے ہیں
اسے تمیز ہی کیا ہے جوانوں میں
بیماروں میں
ہزاروں ضربیں مخفی ہیں دسمبر کے
اوزاروں میں
سرایَت اس پہ پھبتی ہے اثر کی کیا
حقیقت ہے
سمے کو روک لیتا ہے بشر کی کیا
حقیقت ہے
یہ مجرم ڈھونڈ سکتا ہے عدد میں یا
شماروں میں
کہ لمحے باندھ سکتا ہے یہ جزبوں
کی قطاروں میں
ہے کوئی شک اگر تم کو کہ یہ تمہید
جھوٹی ہے
جو میں نے خون سے کی ہے اگر
کشید جھوٹی ہے
تو تھوڑی دیر اے لوگو !  ذرا سا صبر
ہو جائے
کہ بارہ پر ہر اک سوئی جہاں پہ زبر
ہو جائے
تب اک لمحہ چرا کے وقت پہ بس صرف
کر لینا
میرے سارے خلاصے کو فقط اک حرف
کر لینا
اسی لمحے ملے گی چار سو جاوید
گواہی
گھڑی پہ سب کی نظروں کو میرے
نسخے سے آگاہی ...  !!!
                            (رزبؔ تبریز)

اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتے تو سوچیے کہ اجالے کدھر گئے ہوتے

اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتے

تو سوچیے کہ اجالے کدھر گئے ہوتے

یہ میرے دوست مرے چارہ گر مرے احباب

نہ چھیڑتے تو مرے زخم بھر گئے ہوتے

کوئی نگاہ جو اپنی بھی منتظر ہوتی

تو ہم بھی شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے

اگر وہ میری عیادت کو آ گیا ہوتا

تو دوستوں کے بھی چہرے اتر گئے ہوتے

ہمیں تو شوق سخن نے سمیٹ رکھا ہے

وگرنہ ہم تو کبھی کے بکھر گئے ہوتے

انہیں بھی مجھ سے محبت تو ہے نفس لیکن

میں پوچھتا تو یقیناً مکر گئے ہوتے

نفس انبالوی

Mirza Ghalib great Urdu poet



عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی
میری وحشت، تِری شہرت ہی سہی

قطع کیجے نہ، تعلّق ہم سے
کچھ نہیں ہے، توعداوت ہی سہی

میرے ہونے میں، ہے کیا رُسوائی؟
اے، وہ مجلس نہیں، خلوت ہی سہی

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی

اپنی ہستی ہی سے ہو، جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں، غفلت ہی سہی

عمر ہر چند کہ ہے برق خرام
دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی

ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں
نہ سہی عشق، مصیبت ہی سہی

کچھ تو دے، اے فلکِ نا انصاف
آہ وفریاد کی رُخصت ہی سہی

یار سے چھیڑ چلی جاے، اسد
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی​

غالب

*ایک لفظی غلطی* *جسکی درستگی لازم هے*

*ایک لفظی غلطی*
*جسکی درستگی لازم هے*

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ " ﻟﮑﮭﺎ،
ﺗﻮ کسی ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻟﻔﻆ "ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ" ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ،
ﺑﻠﮑﮧ یه
*" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "* ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ…
ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻟﮓ الگ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮا-

ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﺳﻮﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ،
ﺁﭖ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ-

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﺩﯼ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻭﮞ گا"

خود سے ﺗﺤﻘﯿﻖ کی
تو ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﺻﺤﯿﺢ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔

ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
"ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ "

ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﮔﺮ " ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ " ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ مطلب بنتا هے
"ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ" ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﺍﻟﻠﮧ

ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﻮ ﻟﻔﻆ "ﺍﻟﻠﮧ "ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ-

ﺍﺳﮑﮯ ﻟﺌﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ ﮨﯿﮟ
ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻟﻔﻆ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺍﮐﯿﻼ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍ ہے...

1. ﻭَﻫﻮَ ﺍﻟَّﺬِﯼ ﺃَﻧْﺸَﺄَ ﻟَﮑُﻢُ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ ﻭَﺍﻟْﺄَﺑْﺼَﺎﺭَ ﻭَﺍﻟْﺄَﻓْﺌِﺪَۃَ ﻗَﻠِﯿﻠًﺎ ﻣَﺎ ﺗَﺸْﮑُﺮُﻭﻥَ
سورة ﺍﻟﻤﻮﻣﻦ 78

2. ﻗُﻞْ ﺳِﯿﺮُﻭﺍ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺄَﺭْﺽِ ﻓَﺎﻧْﻈُﺮُﻭﺍ ﮐَﯿْﻒَ ﺑَﺪَﺃَ ﺍﻟْﺨَﻠْﻖَ ﺛُﻢَّ ﺍﻟﻠَّﻪ ﯾُﻨْﺸِﺊُ ﺍﻟﻨَّﺸْﺄَۃَ ﺍﻟْﺂَﺧِﺮَۃَ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﮧَ ﻋَﻠَﯽ ﮐُﻞِّ ﺷَﯽْﺀ ٍ ﻗَﺪِﯾﺮ.
سورة ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ 20

3. ﺇِﻧَّﺎ ﺃَﻧْﺸَﺄْﻧَﺎﻫﻦَّ ﺇِﻧْﺸَﺎﺀ ً
سورة ﺍﻟﻮﺍﻗﻌﮧ 35

ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﯿﮟ " ﺍﻟﻠﮧ " ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ.
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﺍﻟﮓ ﻣﻌﻨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔۔

ﻟﻔﻆ
*"ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "*
ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
*" ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "*

" ﺍﻥ " ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﺍﮔﺮ "
"ﺷﺎﺀ "ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﭼﺎﮨﺎ"
"ﺍﻟﻠﮧ "ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ " ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ "

ﺗﻮ ثابت هوا که ﻟﻔﻆ
*" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "*
ﮨﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ
ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ ۔۔

1. ﻭَﺇِﻧَّﺎ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻟَﻤُﮩْﺘَﺪُﻭﻥَ
سورة ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ 70

2. ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﺩْﺧُﻠُﻮﺍ ﻣِﺼْﺮَ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺁَﻣِﻨِﯿﻦَ
سورة ﯾﻮﺳﻒ 99

3. ﻗَﺎﻝَ ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺻَﺎﺑِﺮًﺍ ﻭَﻟَﺎ ﺃَﻋْﺼِﯽ ﻟَﮏَ ﺃَﻣْﺮًﺍ
سورة ﺍﻟﮑﮩﻒ 69

4. ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﯿﻦَ
سورة ﺍﻟﻘﺼﺎﺹ 27

ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻟﻔﻆ
*" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "*
ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
*" ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "*

انگریزی میں یوں لکھ جاسکتا ھے..
*"In Sha Allah"*

صدقه جاریه کے طور پر
اس معلومات کے فروغ کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی بھی درخواست ھے..

جزاک اللہ

ہائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسو گر کے دامن پہ بنے تھے جو ستارے آنسو

ہائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسو

گر کے دامن پہ بنے تھے جو ستارے آنسو

لعل و گوہر کے خزانے ہیں یہ سارے آنسو

کوئی آنکھوں سے چرا لے نہ تمہارے آنسو

ان کی آنکھوں میں جو آئیں تو ستارے آنسو

میری آنکھوں میں اگر ہوں تو بچارے آنسو

دامن صبر بھی ہاتھوں سے مرے چھوٹ گیا

اب تو آ پہنچے ہیں پلکوں کے کنارے آنسو

آپ للہ مری فکر نہ کیجے ہرگز

آ گئے ہیں یوں ہی بس شوق کے مارے آنسو

دو گھڑی درد نے آنکھوں میں بھی رہنے نہ دیا

ہم تو سمجھے تھے بنیں گے یہ سہارے آنسو

تو تو کہتا تھا نہ روئیں گے کبھی تیرے لیے

آج کیوں آ گئے پلکوں کے کنارے آنسو

آج تک ہم کو قلق ہے اسی رسوائی کا

بہہ گئے تھے جو بچھڑنے پہ ہمارے آنسو

میرے ٹھہرے ہوئے اشکوں کی حقیقت سمجھو

کر رہے ہیں کسی طوفاں کے اشارے آنسو

آج اشکوں پہ مرے تم کو ہنسی آتی ہے

تم تو کہتے تھے کبھی ان کو ستارے آنسو

اس قدر غم بھی نہ دے کچھ نہ رہے پاس مرے

ایسا لگتا ہے کہ بہہ جائیں گے سارے آنسو

دل کے جلنے کا اگر اب بھی یہ انداز رہا

پھر تو بن جائیں گے اک دن یہ شرارے آنسو

تم کو رم جھم کا نظارہ جو لگا ہے اب تک

ہم نے جلتے ہوئے آنکھوں سے گزارے آنسو

میرے ہونٹوں کو تو جنبش بھی نہ ہوگی لیکن

شدت غم سے جو گھبرا کے پکارے آنسو

میری فریاد سنی ہے نہ وہ دل موم ہوا

یوں ہی بہہ بہہ کے مرے آج یہ ہارے آنسو

احمد ندیم قاسمی

تُجھے کھو کر بھی تُجھے پاؤں جہاں تک دیکھُوں
حُسنِ یزداں سے تُجھے حُسنِ بُتاں تک دیکھُوں
تُو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا
مَیں تو دِل میں تِرے قدموں کے نِشاں تک دیکھُوں
صِرف اِس شوق میں پُوچھی ہیں ہزاروں باتیں
مَیں تِرا حُسن تِرے حُسنِ بیاں تک دیکھُوں
میرے ویرانہء جاں میں تیری یادوں کے طُفیل
پھُول کِھلتے ہُوئے نظر آتے ہیں جہاں تک دیکھُوں
وقت نے ذہن میں دُھندلا دیئے تیرے خدوخال
یوں تو مَیں ٹُوٹتے تاروں کا دُھواں تک دیکھُوں
دِل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا
مَیں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھُوں
ایک حقیقت سہی فِردوس میں حُوروں کا وُجُود
حُسنِ اِنساں سے نِمٹ لُوں تو وہاں تک دیکھوں
احمد ندیم قاسمی

پیار جے کر گناہ ہے تاں محشر دے ڈینہہ، تیڈے سارے گناہ میڈے ذمے تھۓ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(سئیں اصغر گرمانی )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیار پوجا اے پیار اے عبادت سجنڑ,
پیار زندہ رہنڑ کیتے ساہ ہوندا ہے،
پیار دل اے تے دلدار وی پیار ہے،
پیار روح دے تعلق دا راہ ہوندا ہے،
ساری دنیا دےفتنے فسادیں کنوں،
پیار محفوظ جئ ہک پناہ ہوندا ہے۔
پیار ذاتیں صفاتیں کنوں معتبر،
پیار شاہیں دا وی شہنشاہ ہوندا ہے۔
پیار ہےتاں زمیں چندر تاریں کنوں،
اچیاں پروازاں خاکی وکھیندا ودۓ،
پیارنئیں تاں اے کیا اے جوبندا بشر،
ہک تصور کوں سجدے کریندا ودۓ۔
اےنئیں سمجھا تاں آ میں ڈساواں تیکوں،
پیارسچا ہے رب دی عطا پیار ہے،
پیار پھل اے تے پھلاں دی شبنم وی ھے،
پیار رم جھم ہے باد صباپیار ہے،
پیار ساجد دے سجدے دے اندر ڈسے،
جیہڑا مسجود ہے او خدا پیار ہے،
پیار موت اے تاں موت اچ بقا ہوندی ہے،
پیار ڈکھ اے تاں ڈکھ دی دوا پیار ھے۔
میں تیکوں پیار کیتے تاں وزبر جۓ،
ڈکھ ساری حیاتی دے ہن سارے نمے تھۓ،
پیار جے کر گناہ ہے تاں محشر دے ڈینہہ،
تیڈے سارے گناہ میڈے ذمے تھۓ۔۔۔۔
توں سخی ہیں تیڈا کم سخاوت جوں ہے،
نمی آہدا جو ایں نہ تے ایں حال ڈے،
نمی آہدا جو پہلے بہوں کاہل ہن
نمی آہدا جونہ کوئی نواں کاہل ڈے،
نمی آہدا جو میں تیڈا بھائیوال ہاں
نمی آہدا جو بھائیوالی بھائیوال ڈے،
نمی آہدا جو اکرس ہے ہاں ہس پئے،
آ میڈی تسی روح کوں وی پنڑیال ڈے۔۔
اتنا احساس کر بنڑ کے گستاخ میں
آکھ باہواں نہ سانول سہیندا ودۓ
میں پیغمبر تاں نئیں ول سرعام کیوں،
میکوں مالک بازار اچ وچیندا ودئے۔۔۔
انجیں نائب خدا ہاں مگر دوستا،
میڈا سردار توں،
میڈا سلطان توں،
میڈی اکھیاں دا چاننڑ،
میڈی زندگی،
میڈی پوجا وی توں،
میڈا بھگوان توں،
کیچ بھنبور توں،
تھل دے ٹبڑے وی توں،
رلی سسی دا حاکم پنل خان توں،
میں تیڈے پیریں رلدے پچھاویں جیا،
میڈی قامت بلندی،
میڈاشان توں،
تیڈا ہر ہک حکم میڈے سر اکھیں تے،
ایندی تعمیل کوں بندگی آکھساں،
توڑے ہوساں جنازے دے بستر اتے
میکوں سڈ ماریں توں
تیکوں جی آکھساں.۔۔۔۔۔

خواہش کے مزاروں پہ دیا روز جلا کرٹوٹے ہوئے خوابوں سے شرارت نہیں کرتے....محسن نقوی

ہم غم کو ان آنکھوں سے عبارت نہیں کرتے
لہجے سے بهی کوئی تو شکایت نہیں کرتے

ہم وقت کے ہاتھوں میں کھلونےکی طرح ہیں
اس واسطےدنیا سے بغاوت نہیں کرتے

ہر موڑ پہ آنسو لئے پھرتے ہیں پریشاں
خوابوں سےبغاوت کی جسارت نہیں کرتے

یادوں کی اذیت میں مقید رہے برسوں
جو لوگ محبت میں خیانت نہیں کرتے

اک پل میں بدل دیتے ہیں یہ ساری فضائیں
ایسے ہی تو یہ درد عنایت نہیں کرتے

بے درد سےلمحوں میں تو صدیوں سے پڑے ہیں
بکھرے ہوئے پھرخود کی حفاظت نہیں کرتے

جس ساز پہ ناچے دلِ بربادکی حسرت
اس سُر کی تو ہم روز ریاضت نہیں کرتے

رشتہ ہے محبت کا بہت تجھ سےمری جاں
"سو چاہ کے بھی تجھ سے عداوت نہیں کرتے"

پانی کے جزیروں پہ حکومت ہے ہماری
بہتے ہوئے اشکوں پہ قناعت نہیں کرتے

ویرانی دل کب سے کنارے پہ کھڑی ہے
تم بول کے کیوں برپا قیامت نہیں کرتے

رکھتے ہیں تجھے دل میں عقیدت سے ہمیشہ
نظروں سے فقط تیری عبادت نہیں کرتے

مٹ جاتےہیں سب نقش مری آنکھوں سےسب کے
کچھ عکس تمھارے ہی تو ہجرت نہیں کرتے

خواہش کے مزاروں پہ دیا روز جلا کر
ٹوٹے ہوئے خوابوں سے شرارت نہیں کرتے....
محسن نقوی