بلیک ہول سے باہر نکلا جا سکتا ہے۔

 بلیک ہول سے باہر نکلا جا سکتا ہے۔


یقیناً آپ نے ابتدائی لائن پڑھ کر اس آرٹیکل کو پڑھنے کا سوچا ہوگا کیونکہ شاید آپ میں سے زیادہ تر وہ لوگ، جو فلکیات کے متعلق آگاہی رکھتے ہیں، اس بات سے واقف ہوں گے کہ بلیک ہول ایسے اجسام ہیں جو خلا اور وقت کی ساخت (fabric of space-time) کو اس حد تک خم دیتے ہیں کہ روشنی، جو کہ تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے، بھی اس شدید کرویچر کی وجہ سے قید ہو جاتی ہے۔
لیکن اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے میرا یہ کہنا کہ بلیک ہول سے چیزیں باہر نکل سکتی ہیں، واقعی سوچنے کے قابل ہے۔
تھوڑا سا بلیک ہول کے بارے میں بات کی جائے تو یہ ستاروں کی موت سے وجود میں آتے ہیں۔ پہلی بار ہمیں ان سے سگنل تقریباً 1930 کے دوران وصول ہوئے، مگر ہم اپنی کمزور ٹیکنالوجی کے باعث انہیں سمجھنے میں ناکام رہے۔ پھر 1970 میں سائنسدانوں نے خلا میں کچھ ستاروں کی عجیب و غریب حرکات کا مشاہدہ کیا، جو کسی نامعلوم جسم کے گرد گردش کر رہے تھے۔ کچھ ستارے بہت تیزی سے اور کچھ نسبتاً آہستہ گردش کر رہے تھے۔ ان اثرات نے سائنسدانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ یہاں کچھ ایسا ہے جو ان بڑے ستاروں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ شاید یہ کوئی بہت بڑا ستارہ ہو۔ اس دوران آئن سٹائن کی پیشگوئیوں کے مطابق بلیک ہول کے وجود کی بحث بھی جاری رہی، لیکن ابتدائی طور پر کئی سائنسدانوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا۔ تاہم، تقریباً 30 سال بعد، سائنسدانوں کی اکثریت نے اس حقیقت کو قبول کر لیا کہ بلیک ہول واقعی موجود ہیں۔
آئن سٹائن کی تھیوری آف ریلیٹیویٹی ہمیں صرف بلیک ہول کی بنیاد فراہم کرتی ہے، یعنی یہ کیسے وجود میں آتے ہیں، ان کا اسپیس ٹائم پر کیا اثر ہوتا ہے، اور ان کی گریوٹی وقت پر کیسے اثر ڈالتی ہے۔ تھیوری کے مطابق، جیسے جیسے آپ بلیک ہول کے اندر داخل ہوتے جائیں گے، اس کا قطر (diameter) کم ہوتا جائے گا اور اس کی "فنل" پتلی ہوتی جائے گی۔ لیکن آئن سٹائن کی تھیوری ہمیں اس سے زیادہ معلومات فراہم نہیں کرتی۔
اس کے بعد آتی ہے کوانٹم لوپ تھیوری۔
کوانٹم لوپ تھیوری اٹلی کے سائنسدانوں کے ایک گروپ نے پیش کی، جن میں نمایاں نام Dr. Carlo Rovelli کا ہے۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ سپیس ٹائم کی ساخت مسلسل نہیں ہے، بلکہ یہ "گرینولر" (granular) ہے، یعنی چھوٹے ذرات (particles) سے بنی ہوئی ہے۔ ان ذرات سے بھی چھوٹے اجزاء کے بارے میں ہم ابھی نہیں جانتے۔ اگر ہم ڈی بروگلی کے نظریے کو دیکھیں، تو وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہر ذرے کی ویو (wave) اور پارٹیکل (particle) دونوں کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ سپیس ٹائم کا سکڑاؤ (contraction) کبھی لامحدود (infinite) نہیں ہو سکتا۔
آئن سٹائن کے مطابق، جیسے جیسے بلیک ہول کے اندر کا سفر کریں گے، اس کا ڈایا میٹر سکڑتا جائے گا کیونکہ سپیس ٹائم سکڑ رہا ہوگا۔ لیکن ڈاکٹر کارلو کے مطابق، یہ سکڑاؤ ایک خاص حد تک پہنچ کر رک جائے گا۔ اس کے بعد ایک "کوانٹم جمپ" (quantum jump) ہوگی، جس کی وجہ سے بلیک ہول اپنی فنل کے ذریعے اندر کا مواد باہر نکال دے گا۔ یہ عمل بلیک ہول کو وائٹ ہول میں تبدیل کر دے گا۔
یہ سن کر شاید آپ سوچیں کہ مزے ہیں، بلیک ہول کے اندر جائیں اور وائٹ ہول کے ذریعے باہر آ جائیں!
لیکن ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ ایک بلیک ہول کتنے عرصے میں وائٹ ہول میں تبدیل ہوتا ہے، یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر پھر کبھی بات کریں گے

عمران خان آور تحریک انصاف کا مستقبل

عمران خان اور تحریک انصاف کا مستقبل

عمران خان اور تحریک انصاف کا مستقبل

عمران خان اور تحریک انصاف (PTI) کا پاکستان میں مستقبل حالیہ سیاسی، قانونی، اور معاشی حالات پر منحصر ہے۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے 2018 میں حکومت بنائی، تاہم 2022 میں ان کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ختم کیا گیا۔ اس کے بعد سے عمران خان اور تحریک انصاف ایک شدید سیاسی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

عمران خان نے اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے عوامی سطح پر تحریکیں اور احتجاجات کیے ہیں، جس کی وجہ سے وہ سیاسی منظر نامے میں مرکزی کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم، ان کے خلاف جاری قانونی مقدمات اور فوج کے ساتھ کشیدہ تعلقات ان کی سیاسی مستقبل کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے مستقبل کا انحصار کئی عوامل پر ہے:

  • قانونی مسائل
  • فوجی تعلقات
  • عوامی مقبولیت
  • پارٹی کی تنظیم

تحریک انصاف کا جھنڈا

پاکستان کے سیاسی بحران کی وجوہات

پاکستان کے سیاسی بحران کی وجوہات

پاکستان کے سیاسی بحران کی وجوہات

1. عدم استحکام اور جمہوریت کی ناپائیداری

پاکستان میں جمہوری نظام کو متعدد بار فوجی آمریتوں نے متاثر کیا ہے۔ ملک میں کئی مرتبہ جمہوری حکومتوں کو برطرف کر کے مارشل لا نافذ کیا گیا۔ اس سے جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہو سکے اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا۔

2. سیاست میں فوج کا کردار

پاکستان کی تاریخ میں فوج کا سیاست میں براہِ راست اور بالواسطہ کردار رہا ہے۔ حکومت کی تبدیلی، سیاستدانوں کے ساتھ فوج کے تعلقات اور بعض اوقات حکومت سازی میں فوج کی مداخلت نے سیاسی بحران کو بڑھاوا دیا ہے۔

3. اداروں کے درمیان ٹکراؤ

پاکستان میں سول اور ملٹری اداروں کے درمیان طاقت کی تقسیم اور توازن کا فقدان رہا ہے۔ عدلیہ، فوج، اور پارلیمنٹ کے درمیان کشمکش اکثر اوقات سیاسی بحران کو جنم دیتی رہی ہے۔

4. کرپشن اور بدعنوانی

ملک میں کرپشن اور بدعنوانی ایک سنگین مسئلہ رہی ہے۔ سیاستدانوں پر کرپشن کے الزامات، نیب اور عدالتوں کی جانب سے مقدمات اور سزاؤں کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ کرپشن کی وجہ سے عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

5. معاشی مسائل

ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی مسائل، جیسے مہنگائی، بے روزگاری، اور غربت نے عوام میں بے چینی پیدا کی ہے۔ معاشی عدم استحکام اکثر سیاسی بحران کا باعث بنتا ہے کیونکہ عوام کا اعتماد حکومت پر کم ہو جاتا ہے۔

6. سیاسی جماعتوں کے اندرونی مسائل

سیاسی جماعتوں میں داخلی انتشار، دھڑے بندی، اور قیادت کی کشمکش بھی سیاسی بحران کا سبب بنتی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے اندر قیادت کی جنگ یا نظریاتی اختلافات کی وجہ سے پارٹیوں میں استحکام نہیں آتا۔

7. انتخابی تنازعات

پاکستان میں انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات اور الیکشن کے نتائج پر سوالات سیاسی بحران کو بڑھا دیتے ہیں۔ انتخابی عمل پر اعتماد کی کمی اور انتخابی اداروں کی کارکردگی پر عوامی شکایات سے جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے۔

8. فرقہ واریت اور نسلی کشمکش

ملک میں فرقہ واریت، نسلی تنازعات اور صوبائیت کی بنیاد پر پیدا ہونے والے مسائل نے بھی سیاسی بحران کو گہرا کیا ہے۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں علیحدگی پسند تحریکیں اور کراچی میں لسانی مسائل سیاسی عدم استحکام کا باعث بنے ہیں۔

9. میڈیا کا کردار

پاکستانی میڈیا کا بھی سیاسی بحرانوں میں ایک اہم کردار ہے۔ بعض اوقات میڈیا کی جانب سے غلط اطلاعات، پروپیگنڈا، یا کسی مخصوص سیاسی جماعت یا ادارے کی حمایت یا مخالفت نے سیاسی بحران کو بڑھایا ہے۔

10. بین الاقوامی مداخلت

بین الاقوامی طاقتیں اور خاص طور پر پڑوسی ممالک جیسے بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی سیاسی بحران میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ بیرونی مداخلت، خاص طور پر افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ، نے بھی پاکستان کے سیاسی استحکام کو متاثر کیا ہے۔

پاکستان کا موجودہ سیاسی اور معاشی بحران: ایک جامع جائزہ

 پاکستان کا موجودہ سیاسی اور معاشی بحران: ایک جامع جائزہ

پاکستان اس وقت ایک پیچیدہ سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ بحران کئی عوامل کا نتیجہ ہے جن میں سیاسی عدم استحکام، معاشی پالیسیوں میں عدم استمراریت، عالمی معاشی حالات، اور قدرتی آفات شامل ہیں۔

سیاسی عدم استحکام

 * سیاسی عدم اعتماد: سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتیں اور اکثر اپنی سیاسی مفادات کو ملک کے مفادات پر ترجیح دیتی ہیں۔

 * حکومتیں کی عدم استحکام: حکومت اکثر بدلتی رہتی ہے جس کی وجہ سے پالیسیوں میں عدم استمراریت رہتی ہے۔

 * عوام کا سیاسی نظام سے مایوس ہونا: عوام سیاسی نظام سے مایوس ہو چکے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ سیاستدانوں کی دلچسپی صرف اقتدار حاصل کرنے میں ہے۔

معاشی پالیسیوں میں عدم استمراریت

 * معاشی پالیسیوں میں بار بار تبدیلیاں: ہر نئی حکومت اپنی اپنی معاشی پالیسیاں لاتی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں عدم یقینی پیدا ہوتی ہے۔

 * قرض کا بوجھ: پاکستان پر قرض کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے جو معاشی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

 * مہنگائی: مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس سے عوام کی خریداری کی قوت کم ہو رہی ہے۔

عالمی معاشی حالات

 * کووڈ-19 کی عالمی وبا: کورونا وبا نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کا پاکستان پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔

 * یوکرین جنگ: یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ گیا ہے۔

قدرتی آفات

 * سیلاب: پاکستان میں بار بار آنے والے سیلابوں سے زرعی پیداوار تباہ ہوتی ہے اور معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔

مستقبل کے لیے چیلنجز

 * معاشی عدم استحکام: اگر موجودہ صورتحال میں بہتری نہیں آئی تو پاکستان معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

 * سرمایہ کاری میں کمی: سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

 * بے روزگاری: معاشی بحران کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

حل

  سیاسی استحکام: سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا اور ملک کی بہتری کے لیے ایک مشترکہ ایجنڈا بنانا ہوگا۔

 معاشی اصلاحات: حکومت کو معاشی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ قرض کا بوجھ کم کیا جا سکے اور مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔

 عوامی اعتماد بحال کرنا: حکومت کو عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے شفاف اور جوابدہ نظام بنانا ہوگا۔

  عالمی برادری سے تعاون: پاکستان کو عالمی برادری سے تعاون کرنا ہوگا تاکہ معاشی بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

نوٹ: یہ ایک جامع جائزہ ہے اور اس میں پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی بحران کے تمام پہلوؤں کو شامل نہیں کیا جا سکا۔ مزید تفصیلی معلومات کے لیے آپ مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

اردو شاعری

 ٹوٹ جائیں گے بچا لے کوئی

خواب نیندوں سے چرا لے کوئی


ابھی روشن ہیں ان آنکھوں کے دیے

اپنی راہوں میں جلا لے کوئی


وقت نے چھوڑ دیا ہے پیچھے

قافلہ ساتھ ملا لے کوئی


ہم ہیں سامان سمیٹے بیٹھے

دے کے آواز بلا لے کوئی


کورے کاغذ کی طرح آئیں گے

جو بھی من چاہے لکھا لے کوئی


مہ کشی کفر سمجھتا ہوں میں

اور چاہے جو پلا لے کوئی


میرے اپنے تو نہیں مانیں گے

چلو اب غیر منا لے کوئی


مجھ کو تعمیر نہیں کر سکتا

میرا ملبہ ہی اٹھا لے کوئی


اپنی نیندوں سے تو ڈر لگتا ہے

اپنی نیندوں میں سلا لے کوئی


یونہی بے کار بکے جاتا ہوں

آج اپنی ہی سنا لے کوئی


پھر اسی ڈر سے کسی کا نہ ہوا

مجھے پھر سے نہ گنوا لے کوئی


.❤️

’’ ﻏﻨﻮﯼ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ‘‘ ‏( ﺟﻮﻋﻨﺪﻟﯿﺐ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﮯ ‏) ﺍﻋﺠﺎﺯ ﻣﻨﮕﯽ


’’ ﻏﻨﻮﯼ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ‘‘
‏( ﺟﻮﻋﻨﺪﻟﯿﺐ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﮯ ‏)
ﺍﻋﺠﺎﺯ ﻣﻨﮕﯽ
ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ :
’’ ﻣﯿﮟ ﻋﻨﺪﻟﯿﺐِ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﻮﮞ ‘‘
ﯾﻌﻨﯽ : ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺑﻠﺒﻞ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ !!
ﻏﺎﻟﺐ ﮐﺎ ﺭﻭﭖ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﺟﻼﻭﻃﻦ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮐﺎ ﺭﻭﭖ ﺗﮭﺎ
ﺷﯿﺦ ﺍﯾﺎﺯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ
ﯾﮧ ﮨﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
’’ ﻣﯿﮟ ﻋﻨﺪﻟﯿﺐِ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﻮﮞ ‘‘
ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻨﮕﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ
ﻭﮦ ﺗﻨﮩﺎ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﺗﻨﮩﺎ ﺟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺯﮨﺮ ﭘﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﺮﮔﺰﺷﺖ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ
’’ ﻧﯿﻞ ﮐﻨﭩﮫ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻢ ﮐﯽ ﭘﺘﯽ ‘‘ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺗﻠﺦ ﺗﺮﯾﻦ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﻠﺦ ﺗﺮﯾﻦ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺗﻠﺦ ﺗﺮﯾﻦ ﻧﻐﻤﮯ ﮔﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
’’ ﻣﯿﮟ ﻋﻨﺪﻟﯿﺐ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﻮﮞ ‘‘
ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺳﺖ؛ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺗﮭﯽ؛ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩﻦ
ﻏﻨﻮﯼ ﺑﮭﭩﻮ ﺑﮭﯽ
ﺍﺱ ﭼﻤﻦ ﮐﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ !
ﺷﺎﯾﺪ ﻣﺮﺗﻀﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﺁﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﮐﺮﺩﯼ
ﺷﺎﯾﺪ ﻣﺮﺗﻀﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﺟﻠﺪﯼ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ
ﺷﺎﯾﺪ ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮨﮯ
ﺷﺎﯾﺪ ﻣﺤﺒﺖ ﺟﻼﻭﻃﻨﯽ ﮨﮯ !!
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﭘﺮ
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻼﻭﻃﻦ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﭘﺮ
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﻼﻭﻃﻦ ﺗﮭﺎ
ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﭘﺮ
ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﮯ
’’ ﻣﯿﺮ ۔۔۔ﻣﯿﺮ۔۔۔ﻣﯿﺮ ‘‘!
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﺎﻣﮑﻤﻞ ﻧﻈﻢ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﻥ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﮍﮬﺎ ﻧﺎﻭﻝ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻧﯿﺎﻡ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ !!
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﺒﻨﺎﻧﯽ ﭘﺎﺳﭙﻮﺭﭦ
ﺩﮐﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮈﺳﭧ ﺑﻦ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﻦ ﮨﮯ؛ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮞ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﮯ !
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻮ ﺳﺘﺮ ﮐﻠﻔﭩﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺱ ﺷﺎﺥ ﭘﺮ
ﺍﯾﮏ ﺗﻨﮩﺎ ﭘﻨﭽﮭﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ :
’’ ﻣﯿﮟ ﻋﻨﺪﻟﯿﺐِ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﻮﮞ ‘‘
ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺑﻠﺒﻞ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ
ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﭽﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ
ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ
ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﯾﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ
ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﯿﺞ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ
ﻭﮦ ﺑﺎﻍ ﺑﺎﺥ ﮐﮯ ﻧﻐﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺳﺎﺯ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﯾﺘﯿﻢ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺳﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﺑﺴﻨﺖ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﺁﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﻧﺎﭘﯿﺪ ﺑﺎﻍ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺩﺍﺱ ﭘﻨﭽﮭﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﻮﻧﺪ ﮐﺮ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺑﺎﻍ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﺖ ﺟﮭﮍ ﮐﮯ ﺷﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺍﺩﺍﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ !
ﻭﮦ ﺑﺎﻍ ﺑﺎﺥ ﮐﮯ ﻧﻐﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﮐﺐ ﺟﺎﮔﮯ ﮔﺎ؟
ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﺮ ﮐﻮﻧﭙﻞ ﻧﻮﺯﺍﺋﯿﺪﮦ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ
ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﺯﮎ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﺐ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮔﺎ
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﻼﻭﻃﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮐﺐ ﺑﻮﻟﮯ ﮔﺎ؟
’’ ﮐﺐ ﭨﮩﺮﮮ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺍﮮ ﺩﻝ
ﮐﺐ ﺭﺍﺕ ﺑﺴﺮ ﮨﻮﮔﯽ؟
ﺳﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ
ﺳﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺳﺤﺮ ﮨﻮﮔﯽ !
ﮐﺐ ﺟﺎﻥ ﻟﮩﻮ ﮨﻮﮔﯽ؟
ﮐﺐ ﺍﺷﮏ ﮔﮩﺮ ﮨﻮﮔﺎ؟
ﮐﺲ ﺩﻥ ﺗﯿﺮﯼ ﺷﻨﻮﺍﺋﯽ
ﺍﮮ ﺩﯾﺪﮦ ﺗﺮ ﮨﻮﮔﯽ؟ ‘‘
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻮ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺯﻭﺍﻝ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﻋﺮﻭﺝ ﮐﺐ ﺑﻨﮯ ﮔﯽ؟
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﻟﮩﻦ ﺟﯿﺴﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺐ ﺳﺠﮯ ﮔﯽ؟
’’ ﮐﺐ ﭨﮩﺮﮮ ﮔﺎ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﺍﮮ ﺩﻝ
ﮐﺐ ﺭﺍﺕ ﺑﺴﺮ ﮨﻮﮔﯽ
ﺳﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ
ﺳﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺳﺤﺮ ﮨﻮﮔﯽ؟ ‘‘
ﻭﮦ ﺳﺤﺮ ﮐﺐ ﭼﮭﺎﺋﮯ ﮔﯽ؟
ﻭﮦ ﮔﮭﮍﯼ ﮐﺐ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ؟
ﮐﺐ ﻣﺬﺩﻭﺭ ﻣﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯿﮟ ﮔﮯ؟
ﮐﺐ ﮐﺴﺎﻥ ﮨﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯿﮟ ﮔﮯ؟
ﮐﺐ ﮨﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﻭﮦ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﮐﺐ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ؟
ﺟﺲ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﮔﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺥ ﺩﻭﻟﮩﮯ
ﺳﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﮦ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﮔﺌﮯ
ﺳﻔﯿﺪ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﺩﻟﮩﻦ
ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﻮﻧﮕﮭﭧ ﮐﮯ ﭘﭧ ﮐﺐ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮔﯽ؟
ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﮐﮭﮯ ﺷﺠﺮ ﺑﮧ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﻠﺒﻞ
ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﻧﭻ ﮐﺐ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮔﯽ؟
ﯾﮧ ﺑﻠﺒﻞ ﮐﺐ ﺑﻮﻟﮯ ﮔﯽ؟
’’ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺁﺧﺮﯼ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺁﺧﺮﯼ ﮨﮯ ﺟﻨﮓ !
ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺁﺧﺮﯼ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺁﺧﺮﯼ ﮨﮯ ﺟﻨﮓ !!!!

Mard Sub aik say hoty hain

تم جو کہتی ہو بنتِ حوا
مرد سب ایک سے ہوتے ہیں
کبھی دیکھا نہیں تم نے؟
کوئی باپ کہیں ایسا
کوئی بھائی کہیں ایسا
جس کا نہ پیر ہو زمیں پر
نہ شکوہء شکن ہو جبیں پر
جو بیٹی کے لئے روز
 کچھ نہ کچھ لاتا ہوں
جو اپنی بہن کے روز
ہنس کے لاڈ اُٹھاتا ہو
جسے خیال اپنا  نہ اپنی صحت کا 
جو ماں کا لال ہو محافظ رحمت کا
چلے جو ساتھ بیٹی کے 
لوگوں کی نظر جھک جائے 
جو کھڑا ہو ساتھ بہن کے 
مجال کیا کوئی نگاہ اُٹھائے 
جس کی جوتی بھی گھر کی چوکھٹ پر
چوکیداری کا کام کرتی ہو
جسکی نسبت سے بنتِ آدم کا
دنیا احترام کرتی ہو
تم نے دیکھے نہیں مرد ایسے ؟
جنکے پاس ہو اگر کچھ پیسے
خواہشیں اپنی وہ مار دیتے ہیں
کتنے پردیسی  اپنی کئیں عیدیں 
اکیلا تنہا گزار دیتے ہیں
تم نے دیکھے کہاں ہے مرد سنو 
بارڈر کے کہیں پاس چلو 
کچھ مرد تمھیں دکھانے ہیں
جنکے بٹووں میں ہی گھرانے ہیں
جو یادوں کے سہارے جیتے ہیں
تم دیکھنا کیا کھاتے پیتے ہیں
ہاں ٹھیک ہے کسی مرد نے 
دل تمھارا دُکھایا ہوگا کبھی
بے وجہ تمھارے ارمانوں کا
گلا دبایا ہوگا کبھی 
مگر نہیں میں مانتی کہ ہاں جی ہاں
مرد سب کے سب سانجھے ہیں
نہ کہتی ہوں کہ اب بھی یہاں
بستے کئیں رانجھے ہیں
میں بس کہوں گی اتنا کہ
میرے پاس جو میرے بابا ہیں
میرے سنگ جو میرا بھائی ہے
بہترین مرد کہتے ہیں کسے 
یہ بات اُنھوں نے سمجھائی ہے
بکواس ہے سراسر جھوٹ ہے 
کوئی اسمیں نہیں سچائی ہے
مرد سب ایک سے ہوتے ہیں
یہ افواہ غلط پھیلائی ہے 
یہ افواہ غلط پھیلائی ہے

Mohsin Naqvi




دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد​
کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد​

کوئی پیغام نہ دلدارِ نوا تیرے بعد​
خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد​

لب پہ اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد​
دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد​

عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد​
ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد​

دھوپ عارض کی نہ زلفوں کی گھٹا تیرے بعد​
ہجر کی رت ہے کہ حبس کی فضا تیرے بعد​

لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد​
پرچمِ تارِ گریباں کو ہوا تیرے بعد​

پیرہن اپنا سلامت نہ قبا تیرے بعد​
بس وہی ہم وہی صحرا کی ردا تیرے بعد​

نکہت و نے ہے تہِ دستِ قضا تیرے بعد​
شاخِ جاں پر کوئ غنچہ نہ کھلا تیرے بعد​

دل نہ مہتاب سے الجھا نہ جلا تیرے بعد​
ایک جگنو تھا کہ چپ چاپ بجھ ا تیرے بعد​

کون رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد​
اپنا خوں اپنی ہتھیلی پہ سجا تیرے بعد​

درد سینے میں ہوا نوحہ سرا تیرے بعد​
دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد​

ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد​
ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد​

ایک قیامت کی خراشیں تیرے سر پہ سجیں​
ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد​

تجھ سے بچھڑا ہوں تو مرجھا کے ہوا بُرد ہوا​
کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد​

اے فلک ناز میری خاک نشانی تیری​
میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد​

تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا​
میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد​

ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے​
کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد​

بجھتے جاتے ہیں خدوخال’ مناظر ‘ آفاق​
پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد​

یہ الگ بات ہے کہ افشا نہ ہوا تو ورنہ​
میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد​

میری دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا​
میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد​

سہ لیا دل نے تر ے بعد ملامت کا عذاب​
ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد​

جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں !​
شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد​

محسن نقوی
طلوعِ اشک سے انتخاب

Saraiki Nazam

ﮨﺎئے ﮨﺎئے ﺍﻭ ﻭﯾﻠﮯ ﻧﺌﯿﮟ ﺑﮭﻠﺪﮮ
ﺟﮉﺍﮞ ﺗﮭﮕﮍﯾﺎﮞ ﺑﺪﮪ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﮯ ﺗﮯ
ﺑﮭﺎﮦ ﻟﯿﻨﺪﮮ ﮨﺎﺳﮯ ﮐﮭﮑﮭﺮﯾﮟ ﮐﻮﮞ
ﺟﮉﺍﮞ ﭘﮩﻠﯽ ﻭﺍﺭﯼ ﻭﺳﺘﯽ ﻭﭺ
ﺑﺲ ﮨﺎﺭﻥ ﺁﻥ ﻭﮔﺎﯾﺎ ﮨﺎ
ﺍﻭﮞ ﺳﺎﮈﺍ ﻣﺎﻝ ﮈﺭﺍﯾﺎ ﮨﺎ
ﺟﮉﺍﮞ ﭨﻮﮐﺮﮮ ﻻ ﮐﮯ ﻭﯾﮩﮍﮮ ﻭﭺ
ﮐﺌﯽ ﭼﻠﮑﺪیاں ﭼﮍﯾﺎﮞ ﻧﭗ ﻧﭗ ﮐﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﻻ ﮈﯾﻮﻧﮍ
ﭘﭽﮫ ﭘﭧ ﮐﮯ ﺍﻧﺖ ﺍﮈﺍ ﮈﯾﻮﻧﮍ
ﮨﺎئے ﮨﺎئے ﺍﻭ ﻭﯾﻠﮯ ﻧﺌﯿﮟ ﺑُﮭﻠﺪﮮ
ﺍﻭ ﭼﯿﮏ ﭼﮩوﮌﺍ ﭼُﻠﮩیں ﺗﮯ
ﺍﮮ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺳﺎﮞ
ﺍﯾﮟ ﮔﺎل ﺗﮯ ﺭﻭﻟﮯ ﮨﻮﻧﺪﮮ ﮨﻦ
ﺟﮉﺍﮞ ﺳﮑﮭﻨﮍے ﭼﻮﻟﮯ ﮨﻮﻧﺪﮮ ﮨﻦ
ﺟﮉﺍﮞ ﮨﻦ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﭘﻠﻮ ﻭﭺ
ﺍﻭ ﻟﮏ ﭼﮭﭗ ﻟﮏ ﭼﮭﭗ ﮐﮭﯿﮉﺩﯾﮟ ﮨﻮﺋﯿﮟ
ﮐﮉﯼ لوکڑاں ﻧﺎﻝ ﮐﻠﻮﭨﮭﯽ ﺩﮮ
ﮐﮉﯼ ﻃﺎﻕ ﺩﮮ ﺍﻭﮈﮬﺮ ﻟﮏ ﻭﻧﺠﮍﺍﮞ
ﺳﺎﮦ ﺳﮏ ﻭﻧﺠﮍﺍﮞ
ﺟﮉﺍﮞ ﭘﻮﮦ ﺩﯾﺎﮞ ﻟﺴﯿﺎﮞ
ﮐﮭﻤﮍﯾﺎﮞ ﻭﭺ
ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﻨﮕﮫ ﻓﻠﮏ ﺗﮏ ﺁﻭﮮ ﮨﺎ
ﺳﺎﮈﯼ ﺗﺎﮌﯼ ﭘﯿﻨﮕﮫ ﺗﺌﯿﮟ ﻭﯾﻨﺪﯼ ﮨﺎﺋﯽ
ﺍﻭ ﺭﺍﺕ ﺩﯼ ﻣﺎ ﺩﮮ ﮈﺭ ﮐﻮﻟﻮﮞ
ﺳﺎﮈﺍ ﺷﺎﻡ ﺗﻮﮞ پہلے ﺳﻢ ﻭﻧﺠﮍﺍﮞ
ﮨﺎئے ﮨﺎئے ﺍﻭ ﻭﯾﻠﮯ ﻧﺌﯿﮟ ﺑﮭﻠﺪﮮ
ﺍﻭ ﻭﯾﻠﮯ ﮐﯿﻮﯾﮟ ﺑﮭﻞ ﺳﮕﺪﻥ
ﺟﮉﺍﮞ ﺁﮐﮭﯿﺎ ﮨﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﺎﮐﻮﮞ
ﭼﻠﻮ ﺗﺨﺘﯽ ﭼﺎﺅ ﺍﻣﻼﺀ ﻟﮑﮭﻨﮍﮮ
ﻣﯿﮉﯼ ﻣﺲ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎہئی… ﻣﯿﮟ ﺭﻧﺎ ﮨﻢ
ﻣﯿﮉﯾﺎﮞ ﮨﻨﺠﻮﮞ ﭘﻮﻧﺠﮫ ﮐﮯ
ﺗﺌﯿﮟ ﺳﺎﻧﻮﻝ ﮈﻭ ﭘﮍﯾﺎﮞ
ﻣﯿﮑﻮﮞ ﮈﺗﯿﺎﮞ ﮨﻦ
ﺗﯿﮉﯾﺎﮞ ﮈﻭ ﭘﮍﯾﺎﮞ… ﻣﯿﮟ ﮨﺎﻟﯽ ﺗﺎﺋﯿﮟ مخمور قلندری ﮈﯾﻮﯾﻨﮍﯾﺎﮞ ﮨﻦ …..

Best Urdu Poetry



کبھی انسان کا بننا خدا اچھا نہیں ہوتا
جنابِ شیخ سے کہہ دو اُنہیں سجدہ نہیں ہوتا

بجھا دیتے ہیں وہ مکتب دلوں کی روشنی جن میں
"عصائیں" لاکھ ہوتی ہیں، یدِ بیضا نہیں ہوتا

کہا مجھ سے قلندر نے سمجھ آسان سا نکتہ
غمِ جاناں ہو جس دل میں، غمِ دنیا نہیں ہوتا

تلاطم خیز موجوں میں اترنا ہے بکھرنا ہے
جہادِ زندگی صاحب لبِ دریا نہیں ہوتا

قلم پکڑو، جگر تھامو، کہو دل کی، سنو دل کی
نہ ہو جب تک جنوں کامل، سخَن پختہ نہیں ہوتا

نہ ہے رہزن کا ڈر ہم کو نہ رہبر کی تمنا کچھ
وہاں سے ہم گزرتے ہیں جہاں رستہ نہیں ہوتا

ہمیں ہے نالہِ بلبل سبَق محفل گدازی کا
جگر خوں کر نہیں سکتا، جو دل ٹُوٹا نہیں ہوتا

فقیروں کی صدا سُن لے، مُنیبِِؔ با وفا سُن لے
ہر اِک دَر پر نہیں رکھنا، کہ دل پیالہ نہیں ہوتا

کلام: ابنِ مُنیبؔ

Sad Urdu Poetry


عقیدت توڑ آئ ہوں ،،عبادت چھوڑ آئئ ہوں
محبت میں وفاؤں کی روایت چھوڑ آئئ ہوں

کسی نے خواب کے بدلے میں حرمت مانگ لی مجھ سے 
میں زندہ آنکھ میں مرتی وہ حسرت چھوڑ آئئ ہوں

یہ ایسے زخم تھے مجھکو جو اپنی جا ں سے پیارے تھے 
سدا رستے رہیں ، بھرنے کی نیت چھوڑ آئئ ہوں

خودی کو بیچ دیتی تو مسرت مل بھی سکتی تھی 
اٹھا کے درد کی گھٹری میں راحت چھوڑ آئئ ہوں

خدایا تو تو لوگوں کی طرح قیمت نہ لے مجھ سے 
اٹھا کے بدنصیبی کو میں نعمت چھوڑ آئئ ہوں

لگی تھی آگ جب دل میں تو دامن کو بچاتی کیا 
بہت انمول رشتوں کی بھی قربت چھوڑ آئئ ہوں

اٹھا لائی ہوں خوابوں کے سبھی ٹکرے میں آنچل میں 
بس اپنے خون سے لکھ کر عبارت چھوڑ آئئ ہوں

کبھی ایسا بھی تھا اس شخص کی مجھکو ضرورت تھی 
مگر رو رو منانے کی --- وہ عادت چھوڑ آئئ ہوں

عبد الحمید عدمؔ


بھولے سے کبھی لے جو کوئی نام ہمارا 

 مر جائے خوشی سے دل ناکام ہمارا

لے جاتی ہے اس سمت ہمیں گردش دوراں 

 اے دوست خرابات سے کیا کام ہمارا

کر لیتے ہیں تخلیق کوئی وجہ اذیت 

 بھاتا نہیں خود ہم کو بھی آرام ہمارا

اے گردش دوراں یہ کوئی سوچ کی رت ہے 

 کمبخت ابھی دور میں ہے جام ہمارا

اس بار تو آیا تھا ادھر قاصد جاں خود 

 سرکار کو پہنچا نہیں پیغام ہمارا

پہنچائی ہے تکلیف بہت پہلے ہی تجھ کو 

 اے راہنما ہاتھ نہ اب تھام ہمارا

اے قافلۂ ہوش گنوا وقت نہ اپنا 

 پڑتا نہیں کچھ ٹھیک ابھی گام ہمارا

دیکھا ہے حرم تیرا مگر ہائے رے زاہد 

 مہکا ہوا وہ کوچۂ اصنام ہمارا

غلمان بھی جنت کے بڑی چیز ہیں لیکن 

 توبہ مری وہ ساقیٔ گلفام ہمارا

گل نوحہ کناں و صنم دست بہ سینہ 

 اللہ غنی! لمحۂ انجام ہمارا

کر بیٹھے ہیں ہم بھول کے توبہ جو سحر کو 

 شیشے کو تعاقب ہے سر شام ہمارا

مے پینا عدمؔ اور قدم چومنا ان کے 

 ہے شغل یہی اب سحر و شام ہمارا

عبد الحمید عدمؔ

Mohsin Naqvi The Legend

خواب   کو   صورتِ   حالات  بنا    جاتا   ہے
دل  کو  آنا ہو تو  بے وقت  بھی  آ  جاتا  ہے

ہو  کے  ناراض  نہ  جائے کوئی  مہماں  ورنہ
گھر   سے  وصفِ  در  و  یوار  چَلا  جاتا  ہے

آنکھ  سے  آنکھ  مِلانا  تو  سُخن   مت  کرنا
ٹوک   دینے   سے   کہانی  کا   مزا  جاتا   ہے

ٹھیک کہتے  ہو کہ آسیب زدہ ہوتا  ہے عشق
میرے  اندر  بھی  کوئی  شور  مَچا جاتا  ہے

پیار  آ  جائے  تو  پھر  پیار  ہی  کیجے  ورنہ
جس  طرح آتا  ہے ، اُس طرح  چلا  جاتا  ہے

میں تو ہر فیصلہ ہی کرتا ہوں اپنے حق میں
پر   کوئی   عدل   کی   زنجیر  ہِلا  جاتا  ہے

عمرِ  رفتہ  میں  تُجھے  یاد کہاں  کرتا  ہوں
بس  ذرا  یُوں  ہی  ترا دھیان  سا آ  جاتا ہے

کوئی پاگل مُجھے کہتا ہے تو کیا ہے محسنؔ
ایک  پاگل  کو   تو  پاگل   ہی  کہا  جاتا  ہے

میثم علی آغا

کہیں قبا  تو  کہیں  آستیں  بچھاتے  ہوئے
میں مر گیا  ہوں  وفاداریاں  نبھاتے  ہوئے

عجیب رات تھی آنکھیں ہی لے گئی میری
میں بجھ گیا تھا چراغِ  سحر جلاتے  ہوئے

سزا کے طور پہ آنکھیں نکال لیں اُس نے
میں رو پڑا تھا کوئی داستاں سناتے ہوئے

عجب نہیں تھا  کہ  دریا  لپیٹ  لیتا  مجھے
میں  بھاگ آیا ہوں تشنہ لبی بچاتے  ہوئے

درونِ چشم  کسی  خواب  کا  جنازہ  ہے
نکل  رہے  ہیں  عزادار  غم  مناتے  ہوئے

میثم علی آغا

December Poetry

آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے میں
کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں
رفتگاں کےبکھرتے سالوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں
دھیان کی سیڑھیوں میں کیا کیا عکس
مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک کی لائنیں لگاتے ہیں
ہر دسمبر کے آخری دن میں
ہر برس کی طرح اب بھی
ڈائری ایک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گرد ماضی سے اٹ گئے ہونگے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سمٹ گئے ہونگے
ہردسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری ،دوست دیکھتے ہونگے
ان کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نشاں صفحوں سے
نام میرا بھی
کٹ گیا ہوگا

امجد اسلام امجد

December


دسمبر 

کتنا مشکل ہے صبر کرنا
نہ کوئی جینا نہ کوئی مرنا
تم کو یاد ہے ؟
وہ شام فرقت
میں نے رو کر تمہیں کہا تھا
کہیں بھی جانا
کہیں بھی رہنا 
مگر دسمبر کی سرد راتوں
میں لوٹ آنا
نہیں نہ آئے
ٹھہر ٹھہر کر
ہر ایک لمحہ مجھے ستائے
ہر ایک کروٹ پہ تم کو ڈھونڈوں
اتنی ہمت بھی تو نہیں ہے
کہ زہر پی لوں
نیم شب کو امڈنے والی
خنک ہوائیں
بدن جلائیں
میرے دل کے تمام نغمے
تمہیں بلائیں
کپکپاتے لبوں کی لرزش
ماند پڑنے لگی ہے آ جا
زندگی کو تری جدائی
سے ہار ہونے لگی ہے آ جا
بپھر رہا ہے
بیمار آنکھوں میں اک سمندر
مجھے یہ ڈر ہے
نہ آخری ہو یہی دسمبر

( معصومہ رضا )      😢😢😢😢😢

آرزوئیں فضول ہوتی ہیں 

آرزوئیں فضول ہوتی ہیں 
گویا کاغذ کے پھول ہوتی ہیں 

ہر کسی نام پر نہیں رکتیں 
دھڑکنیں با اصول ہوتی ہیں 

پتھروں کے خداؤں کے آگے 
التجائں فضول ہوتی ہیں 

کوئی میرے لبوں کو بھی لا دے 
جو دعائیں قبول ہوتی ہیں 

خواب ٹوٹیں یا بکھر جایں 
قیمتیں کب وصول ہوتی ہیں¡

رحمان فارس

معلُوم ھے جناب کا مطلب کچھ اَور ھے !
میری لُغَت میں آب کا مطلب کچھ اَور ھے

تُو نے بہت خراب کیا ھے مُجھے مگر
اس شعر میں خراب کا مطلب کچھ اَور ھے

یہ عارضی طلَب ھے، اِسے عشق مت سمجھ
لمحاتی اضطراب کا مطلب کچھ اَور ھے

تسلیم ھے کہ مَیں نے دیا ھے اُسے گُلاب
لیکن یہاں گُلاب کا مطلب کچھ اَور ھے !

صحرا نے کر تو دی ھے مُجھے گھر کی پیشکش
اس خانماں خراب کا مطلب کچھ اَور ھے

تعبیر زندگی ھی بتائی گئی مُجھے
حالانکہ میرے خواب کا مطلب کچھ اَور ھے

صحرا کے ھاں بھنور کے معانی ھیں مُختلف
دریا کے ھاں سراب کا مطلب  کچھ اَور ھے !

فرھنگِ عشق دیکھ کے آیا ھُوں مَیں ابھی
اُس میں گُنہ ثواب کا مطلب کچھ اَور ھے

اس فتنہ گر ھجُوم کو سمجھائیے، جناب !
قوموں میں انقلاب کا مطلب کچھ اَور ھے

سچ ھے کہ ماھتاب سے کرتا ھُوں عشق مَیں
ھاں لفظِ ماھتاب کا مطلب کچھ اَور ھے !

گو وصل کے سوال پہ انکار ھوگیا
خوش ھُوں کہ اس جواب کا مطلب کچھ اَور ھے

ھوتی ھے اَور طرح غریبوں کی چھان بین
شاھوں کے احتساب کا مطلب کچھ اَور ھے

سوھنی کے ساتھ ڈُوب گیا مَیں چناب میں
لیکن یہاں چناب کا مطلب کچھ اَور ھے

ناراض عشق ! حُسن کی مجبوریاں سمجھ
محفل میں اجتناب کا مطلب کچھ اَور ھے

ساقی کی پیشکش نہیں محدُود جام تک
اس دعوتِ شراب کا مطلب کچھ اَور ھے

کچھ اَور ھے کتاب کو کرنا کسی کے نام
کتبے پہ انتساب کا مطلب کچھ اَور ھے

مقصد فقط چُھپانا نہیں خدّوخال کو
فارس میاں ! حجاب کا مطلب کچھ اَور ھے

رحمان فارس

شاعرہ ___ ادا جعفری

آخری  ٹِیس،  آزمانے  کو...
جی  تو  چاہا  تھا،  مسکرانے  کو___

یاد  اتنی  بھی،  سخت  جاں  تو  نہیں...
اِک  گھروندہ  رہا  ہے،  ڈھانے  کو___

سَنگ  ریزوں  میں،  ڈھَل  گئے  آنسو...
لوگ  ہنستے  رہے،  دِکھانے  کو___

زخمِ  نغمہ  بھی،  لَو  تو  دیتا  ہے...
اِک  دنیا  رِہ  گئی، جلانے  کو___

جَلانے  والے  تو،  جَل  بُجھے  آخِر...
کون  دیتا  خبر،  زمانے  کو___

کِتنے  مجبور،  ہو  گئے  ہونگے...
آخری  بات  مُنہ  پہ،  لانے  کو___

کُھل  کے  ہنسنا  تو،  سب  کو  آتا  ہے...
لوگ  ترستے  رہے،  اِک  بہانے  کو___

ریزہ  ریزہ،  بکھر  گیا  اِنسان...
دِل  کی  ویرانیاں،  جتانے  کو___

حسرتوں  کی،  پناہ  گاہوں  میں...
کیا  ٹھِکانے  ہیں،  سَر  چُھپانے  کو___

ہاتھ  کانٹوں  سے،  کر  لیئے  زخمی...
پھول  بالوں  میں  اِک،  سجانے  کو___

آس  کی  بات  ہو،  کہ  سانس ،  ادا...
یہ  کھِلونے  ہیں،  ٹوٹ  جانے  کو_____!!!

شاعرہ ___ ادا جعفری