ساغر صدیقی

بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے
تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے

منزل نہیں ہوں خضر نہیں راہزن نہیں
منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے

میری نگاہ شوق سے ہر گل ہے دیوتا
میں عشق کا خدا ہوں مجھے یاد کیجیے

نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے
اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجیے

گم صم کھڑی ہیں دونوں جہاں کی حقیقتیں
میں ان سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے

ساغرؔ کسی کے حسن تغافل شعار کی
بہکی ہوئی ادا ہوں مجھے یاد کیجیے

Mery masehiah


☆میرے مسیحا☆                           
میرے مسیحا سے جاکے کہ دو
کہ دم بہ لب ہے قرارِ ہستی
کہ جاں‌گسل انتظار تیرا
کہو کہ مہمان رہ گیا ہے
بس ایک پل کا بیمار تیرا

میرے مسیحا
تیرے سفر میں ہوئی جو روشن
وہ صبحیں راتوں‌ میں‌ ڈھل گئیں‌ ہیں‌
کہ تیرے خوابوں‌کی حدتوں‌ سے
کسی کی آنکھیں‌ ہی جل گئی ہیں‌
میرے مسیحا سے جاکے کہ دو
کہ درد اتنا سوا ہوا ہے
یہ نبض جیسے تھمی ہوئی ہے
یہ وقت جیسے رکا ہوا ہے

میرے مسیحا
سہارے جس کے کٹی ہے ہر شب
وہ آس سینے میں‌ گھٹ رہی ہے
میرے مسیحا ! خبر بھی لو اب!
متاعِ جاں ہے کہ لٹ رہی ہے!
مرے مسیحا !!

Sad Urdu Nazam

وقت کے شکنجوں نے
خواہشوں کے پھولوں کو
نوچ نوچ توڑا ہے
کیا یہ ظلم تھوڑا ہے ؟
درد کے جزیروں نے
آرزو کے جیون کو
مقبروں میں ڈالا ہے
ظلمتوں کے ڈیرے ہیں
لوگ سب لٹیرے ہیں
سکون روٹھ بیٹھا ہے
ذات ریزہ ریزہ ہے
تار تار دامن ہے
درد درد جیون ہے
شبنمی سی پلکیں ہیں
قرب ہے نہ دوری ہے
زندگی ادھوری ہے
اب سمجھ آیا کہ
موت کیوں ضروری ہے

Mohsin naqvi the legend

دل کی لغزش ہے نہ خطا ہے کوئی
بس یونہی روٹھہ گیا ہے کوئی

میں نے رک رک کے تجھے یاد کیا
دل میں جب درد اٹھا ہے کوئی

یا ہوا خاک اڑاتی ہو گی
یا مجھے ڈھونڈ رہا ہے کوئی

موت آتی ہے نہ تو آتا ہے
یہ بھی جینے کی سزا ہے کوئی

اب وہ ملتا ہے تو یوں لگتا ہے
سلسلہ ٹوٹ گیا ہے کوئی

سرخ ہے شہر کی شب کا چہرہ
پھر کہیں قتل ہوا ہے کوئی

اے بچھڑ کر نہ پلٹنے والے
تیرے رستے میں کھڑا ہے کوئی

شل ہوۓ ہاتھہ تو سوچا ہم نے
لوگ کہتے تھے خدا ہے کوئی

رقص کرتے ہیں صبا کے جھونکے
شاخ پر پھول کھلا ہے کوئی

اے صبا یاد دلانا اس کو
اب اسے بھول چکا ہے کوئی

پھر میرے پھول کتابیں میری
راہ میں چھوڑ گیا ہے کوئی

ایک آوارہ پرندہ محسن
وسعت عرض و سما ہے کوئی

محسن نقوی

December

دسمبر چل پڑا گهر سے
سنا ہے پہنچنے کو ہے
مگر اس بار کچهہ یوں ہے
کہ میں ملنا نہیں چاہتا
ستمگر سے
میرا مطلب--- دسمبر سے
کبهی آزردہ کرتا تها
مجهے جاتا دسمبر بهی
مگر اب کے برس ہمدم
بہت ہی خوف آتا ہے
مجهے آتے دسمبر سے
دسمبر جو کبهی مجهکو
بہت محبوب لگتا تها
وہی سفاک لگتا ہے
بہت بیباک لگتا ہے
ہاں اس سنگدل مہینے سے 
مجهے اب کے نہیں ملنا
قسم اسکی... نہیں ملنا
مگر سنتا ہوں یہ بهی میں
کہ اس ظالم مہینے کو
کوئی بهی روک نہ پایا
نہ آنے سے، نہ جانے سے
صدائیں یہ نہیں سنتا
وفائیں یہ نہیں کرتا
یہ کرتا ہے فقط اتنا
سزائیں سونپ جاتا ہے....