By Mohsin Naqvi

میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا 
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا 

اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے 
کل مل گیا تو وہ بھی دریدہ لباس تھا 

میں ڈھونڈھتا تھا دور خلاؤں میں ایک جسم 
چہروں کا اک ہجوم مرے آس پاس تھا 

تم خوش تھے پتھروں کو خدا جان کے مگر 
مجھ کو یقین ہے وہ تمہارا قیاس تھا 

بخشا ہے جس نے روح کو زخموں کا پیرہن 
محسنؔ وہ شخص کتنا طبیعت شناس تھا 
 By Mohsin Naqvi

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا 
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا 

اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں 
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا 

کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے 
کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا 

میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت 
آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ہوگا 

رات جل تھل مری آنکھوں میں اتر آیا تھا 
صورت ابر کوئی ٹوٹ کے برسا ہوگا 

یہ مسیحائی اسے بھول گئی ہے محسنؔ 
یا پھر ایسا ہے مرا زخم ہی گہرا ہوگا 

 By Mohsin Maqvi

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے
اڑ گیا جب رنگ رخ سے استخواں پیدا ہوئے

خاکساری نے دکھائیں رفعتوں پر رفعتیں
اس زمیں سے واہ کیا کیا آسماں پیدا ہوئے

علم خالق کا خزانہ ہے میان کاف و نون
ایک کن کہنے سے یہ کون و مکاں پیدا ہوئے

ضبط دیکھو سب کی سن لی اور کچھ اپنی کہی
اس زباں دانی پر ایسے بے زباں پیدا ہوئے

شور بختی آئی حصے میں انہیں کے وا نصیب
تلخ کامی کے لیے شیریں زباں پیدا ہوئے

احتیاط جسم کیا انجام کو سوچو انیسؔ
خاک ہونے کو یہ مشت استخواں پیدا ہوئے

By Mir Anees

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو
ہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کو

پڑھیں درود نہ کیوں دیکھ کر حسینوں کو
خیال صنعت صانع ہے پاک بینوں کو

کمال فقر بھی شایاں ہے پاک بینوں کو
یہ خاک تخت ہے ہم بوریا نشینوں کو

لحد میں سوئے ہیں چھوڑا ہے شہ نشینوں کو
قضا کہاں سے کہاں لے گئی مکینوں کو

یہ جھریاں نہیں ہاتھوں پہ ضعف پیری نے
چنا ہے جامۂ اصلی کی آستینوں کو

لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار
خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو

بھلا تردد بے جا سے ان میں کیا حاصل
اٹھا چکے ہیں زمیندار جن زمینوں کو

انہیں کو آج نہیں بیٹھنے کی جا ملتی
معاف کرتے تھے جو لوگ کل زمینوں کو

یہ زائروں کو ملیں سرفرازیاں ورنہ
کہاں نصیب کہ چومیں ملک جبینوں کو

سجایا ہم نے مضامیں کے تازہ پھولوں سے
بسا دیا ہے ان اجڑی ہوئی زمینوں کو

لحد بھی دیکھیے ان میں نصیب ہو کہ نہ ہو
کہ خاک چھان کے پایا ہے جن زمینوں کو

زوال طاقت و موئے سپید و ضعف بصر
انہیں سے پائے بشر موت کے قرینوں کو

نہیں خبر انہیں مٹی میں اپنے ملنے کی
زمیں میں گاڑ کے بیٹھے ہیں جو دفینوں کو

خبر نہیں انہیں کیا بندوبست پختہ کی
جو غصب کرنے لگے غیر کی زمینوں کو

جہاں سے اٹھ گئے جو لوگ پھر نہیں ملتے
کہاں سے ڈھونڈ کے اب لائیں ہم نشینوں کو

نظر میں پھرتی ہے وہ تیرگی و تنہائی
لحد کی خاک ہے سرمہ مآل بینوں کو

خیال خاطر احباب چاہیئے ہر دم
انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

By Mir Anees

اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا

اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا
قسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا

کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

آوے جو مصطبہ میں تو سن لو کہ راہ سے
واعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا

نے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوش
آیا جو سیل عشق سب اسباب لے گیا

میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیا
رویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا

احوال اس شکار زبوں کا ہے جائے رحم
جس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا

منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے
شب ہم کو میرؔ پرتو مہتاب لے گیا

By Mir Taqi Mir

Kya kahun tum se main ke kya hai ishq,

Kya kahun tum se main ke kya hai ishq,
Jaan ka rog hai, bala hai ishq.

Ishq hi ishq hai jahaan dekho,
Saare aalam mein bhar raha hai ishq.

Ishq maashuq ishq aashiq hai,
Yaani apna hi mubtala hai ishq.

Ishq hai tarz-o-taur ishq ke taeen,
Kahin banda kahin Khuda hai ishq.

Kaun maqsad ko ishq bin pohuncha,
Aarzoo ishq wa mudda hai ishq.

Koi khwaahan nahin mahabbat ka,
Tu kahe jins-e-narawa hai ishq.

Mir ji zarad hote jaate hain,
Kya kahin tum ne bhi kiya hai ishq?


By Mir Taqi Mir

Faqiraana aae sadaa kar chale,

Faqiraana aae sadaa kar chale,
Miyaan khush raho ham dua kar chale.

Jo tujh bin na jeene ko kahte the ham,
So is ahd ko ab wafa kar chale.

Koi naumidana karte nigah,
So tum ham se munh bhi chhipa kar chale.

Bahut aarzoo thi gali ki teri,
So yaan se lahu mein naha kar chale.

Dikhai diye yun ke bekhud kiya,
Hamen aap se bhi juda kar chale.

Jabin sijda karte hi karte gayi,
Haq-e-bandgi ham ada kar chale.

Prastash ki yaan taeen ke ai but tujhe,
Nazr mein sabhon ki Khuda kar chale.

Gayi umr dar band-e-fikr-e-ghazal,
So is fan ko aisa bara kar chale.

Kahen kya jo puchhe koi ham se Mir,
Jahaan mein tum ae the kya kar chale.
 


By Mir Taqi Mir