عمران خان آور تحریک انصاف کا مستقبل

عمران خان اور تحریک انصاف کا مستقبل

عمران خان اور تحریک انصاف کا مستقبل

عمران خان اور تحریک انصاف (PTI) کا پاکستان میں مستقبل حالیہ سیاسی، قانونی، اور معاشی حالات پر منحصر ہے۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے 2018 میں حکومت بنائی، تاہم 2022 میں ان کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ختم کیا گیا۔ اس کے بعد سے عمران خان اور تحریک انصاف ایک شدید سیاسی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

عمران خان نے اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے عوامی سطح پر تحریکیں اور احتجاجات کیے ہیں، جس کی وجہ سے وہ سیاسی منظر نامے میں مرکزی کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم، ان کے خلاف جاری قانونی مقدمات اور فوج کے ساتھ کشیدہ تعلقات ان کی سیاسی مستقبل کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے مستقبل کا انحصار کئی عوامل پر ہے:

  • قانونی مسائل
  • فوجی تعلقات
  • عوامی مقبولیت
  • پارٹی کی تنظیم

تحریک انصاف کا جھنڈا

پاکستان کے سیاسی بحران کی وجوہات

پاکستان کے سیاسی بحران کی وجوہات

پاکستان کے سیاسی بحران کی وجوہات

1. عدم استحکام اور جمہوریت کی ناپائیداری

پاکستان میں جمہوری نظام کو متعدد بار فوجی آمریتوں نے متاثر کیا ہے۔ ملک میں کئی مرتبہ جمہوری حکومتوں کو برطرف کر کے مارشل لا نافذ کیا گیا۔ اس سے جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہو سکے اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا۔

2. سیاست میں فوج کا کردار

پاکستان کی تاریخ میں فوج کا سیاست میں براہِ راست اور بالواسطہ کردار رہا ہے۔ حکومت کی تبدیلی، سیاستدانوں کے ساتھ فوج کے تعلقات اور بعض اوقات حکومت سازی میں فوج کی مداخلت نے سیاسی بحران کو بڑھاوا دیا ہے۔

3. اداروں کے درمیان ٹکراؤ

پاکستان میں سول اور ملٹری اداروں کے درمیان طاقت کی تقسیم اور توازن کا فقدان رہا ہے۔ عدلیہ، فوج، اور پارلیمنٹ کے درمیان کشمکش اکثر اوقات سیاسی بحران کو جنم دیتی رہی ہے۔

4. کرپشن اور بدعنوانی

ملک میں کرپشن اور بدعنوانی ایک سنگین مسئلہ رہی ہے۔ سیاستدانوں پر کرپشن کے الزامات، نیب اور عدالتوں کی جانب سے مقدمات اور سزاؤں کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ کرپشن کی وجہ سے عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

5. معاشی مسائل

ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی مسائل، جیسے مہنگائی، بے روزگاری، اور غربت نے عوام میں بے چینی پیدا کی ہے۔ معاشی عدم استحکام اکثر سیاسی بحران کا باعث بنتا ہے کیونکہ عوام کا اعتماد حکومت پر کم ہو جاتا ہے۔

6. سیاسی جماعتوں کے اندرونی مسائل

سیاسی جماعتوں میں داخلی انتشار، دھڑے بندی، اور قیادت کی کشمکش بھی سیاسی بحران کا سبب بنتی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے اندر قیادت کی جنگ یا نظریاتی اختلافات کی وجہ سے پارٹیوں میں استحکام نہیں آتا۔

7. انتخابی تنازعات

پاکستان میں انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات اور الیکشن کے نتائج پر سوالات سیاسی بحران کو بڑھا دیتے ہیں۔ انتخابی عمل پر اعتماد کی کمی اور انتخابی اداروں کی کارکردگی پر عوامی شکایات سے جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے۔

8. فرقہ واریت اور نسلی کشمکش

ملک میں فرقہ واریت، نسلی تنازعات اور صوبائیت کی بنیاد پر پیدا ہونے والے مسائل نے بھی سیاسی بحران کو گہرا کیا ہے۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں علیحدگی پسند تحریکیں اور کراچی میں لسانی مسائل سیاسی عدم استحکام کا باعث بنے ہیں۔

9. میڈیا کا کردار

پاکستانی میڈیا کا بھی سیاسی بحرانوں میں ایک اہم کردار ہے۔ بعض اوقات میڈیا کی جانب سے غلط اطلاعات، پروپیگنڈا، یا کسی مخصوص سیاسی جماعت یا ادارے کی حمایت یا مخالفت نے سیاسی بحران کو بڑھایا ہے۔

10. بین الاقوامی مداخلت

بین الاقوامی طاقتیں اور خاص طور پر پڑوسی ممالک جیسے بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی سیاسی بحران میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ بیرونی مداخلت، خاص طور پر افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ، نے بھی پاکستان کے سیاسی استحکام کو متاثر کیا ہے۔

پاکستان کا موجودہ سیاسی اور معاشی بحران: ایک جامع جائزہ

 پاکستان کا موجودہ سیاسی اور معاشی بحران: ایک جامع جائزہ

پاکستان اس وقت ایک پیچیدہ سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ بحران کئی عوامل کا نتیجہ ہے جن میں سیاسی عدم استحکام، معاشی پالیسیوں میں عدم استمراریت، عالمی معاشی حالات، اور قدرتی آفات شامل ہیں۔

سیاسی عدم استحکام

 * سیاسی عدم اعتماد: سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتیں اور اکثر اپنی سیاسی مفادات کو ملک کے مفادات پر ترجیح دیتی ہیں۔

 * حکومتیں کی عدم استحکام: حکومت اکثر بدلتی رہتی ہے جس کی وجہ سے پالیسیوں میں عدم استمراریت رہتی ہے۔

 * عوام کا سیاسی نظام سے مایوس ہونا: عوام سیاسی نظام سے مایوس ہو چکے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ سیاستدانوں کی دلچسپی صرف اقتدار حاصل کرنے میں ہے۔

معاشی پالیسیوں میں عدم استمراریت

 * معاشی پالیسیوں میں بار بار تبدیلیاں: ہر نئی حکومت اپنی اپنی معاشی پالیسیاں لاتی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں عدم یقینی پیدا ہوتی ہے۔

 * قرض کا بوجھ: پاکستان پر قرض کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے جو معاشی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

 * مہنگائی: مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس سے عوام کی خریداری کی قوت کم ہو رہی ہے۔

عالمی معاشی حالات

 * کووڈ-19 کی عالمی وبا: کورونا وبا نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کا پاکستان پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔

 * یوکرین جنگ: یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ گیا ہے۔

قدرتی آفات

 * سیلاب: پاکستان میں بار بار آنے والے سیلابوں سے زرعی پیداوار تباہ ہوتی ہے اور معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔

مستقبل کے لیے چیلنجز

 * معاشی عدم استحکام: اگر موجودہ صورتحال میں بہتری نہیں آئی تو پاکستان معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

 * سرمایہ کاری میں کمی: سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

 * بے روزگاری: معاشی بحران کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

حل

  سیاسی استحکام: سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا اور ملک کی بہتری کے لیے ایک مشترکہ ایجنڈا بنانا ہوگا۔

 معاشی اصلاحات: حکومت کو معاشی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ قرض کا بوجھ کم کیا جا سکے اور مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔

 عوامی اعتماد بحال کرنا: حکومت کو عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے شفاف اور جوابدہ نظام بنانا ہوگا۔

  عالمی برادری سے تعاون: پاکستان کو عالمی برادری سے تعاون کرنا ہوگا تاکہ معاشی بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

نوٹ: یہ ایک جامع جائزہ ہے اور اس میں پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی بحران کے تمام پہلوؤں کو شامل نہیں کیا جا سکا۔ مزید تفصیلی معلومات کے لیے آپ مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

اردو شاعری

 ٹوٹ جائیں گے بچا لے کوئی

خواب نیندوں سے چرا لے کوئی


ابھی روشن ہیں ان آنکھوں کے دیے

اپنی راہوں میں جلا لے کوئی


وقت نے چھوڑ دیا ہے پیچھے

قافلہ ساتھ ملا لے کوئی


ہم ہیں سامان سمیٹے بیٹھے

دے کے آواز بلا لے کوئی


کورے کاغذ کی طرح آئیں گے

جو بھی من چاہے لکھا لے کوئی


مہ کشی کفر سمجھتا ہوں میں

اور چاہے جو پلا لے کوئی


میرے اپنے تو نہیں مانیں گے

چلو اب غیر منا لے کوئی


مجھ کو تعمیر نہیں کر سکتا

میرا ملبہ ہی اٹھا لے کوئی


اپنی نیندوں سے تو ڈر لگتا ہے

اپنی نیندوں میں سلا لے کوئی


یونہی بے کار بکے جاتا ہوں

آج اپنی ہی سنا لے کوئی


پھر اسی ڈر سے کسی کا نہ ہوا

مجھے پھر سے نہ گنوا لے کوئی


.❤️

’’ ﻏﻨﻮﯼ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ‘‘ ‏( ﺟﻮﻋﻨﺪﻟﯿﺐ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﮯ ‏) ﺍﻋﺠﺎﺯ ﻣﻨﮕﯽ


’’ ﻏﻨﻮﯼ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ‘‘
‏( ﺟﻮﻋﻨﺪﻟﯿﺐ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﮯ ‏)
ﺍﻋﺠﺎﺯ ﻣﻨﮕﯽ
ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ :
’’ ﻣﯿﮟ ﻋﻨﺪﻟﯿﺐِ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﻮﮞ ‘‘
ﯾﻌﻨﯽ : ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺑﻠﺒﻞ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ !!
ﻏﺎﻟﺐ ﮐﺎ ﺭﻭﭖ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﺟﻼﻭﻃﻦ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮐﺎ ﺭﻭﭖ ﺗﮭﺎ
ﺷﯿﺦ ﺍﯾﺎﺯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ
ﯾﮧ ﮨﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
’’ ﻣﯿﮟ ﻋﻨﺪﻟﯿﺐِ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﻮﮞ ‘‘
ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻨﮕﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ
ﻭﮦ ﺗﻨﮩﺎ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﺗﻨﮩﺎ ﺟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺯﮨﺮ ﭘﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﺮﮔﺰﺷﺖ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ
’’ ﻧﯿﻞ ﮐﻨﭩﮫ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻢ ﮐﯽ ﭘﺘﯽ ‘‘ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺗﻠﺦ ﺗﺮﯾﻦ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﻠﺦ ﺗﺮﯾﻦ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺗﻠﺦ ﺗﺮﯾﻦ ﻧﻐﻤﮯ ﮔﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
’’ ﻣﯿﮟ ﻋﻨﺪﻟﯿﺐ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﻮﮞ ‘‘
ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺳﺖ؛ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺗﮭﯽ؛ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩﻦ
ﻏﻨﻮﯼ ﺑﮭﭩﻮ ﺑﮭﯽ
ﺍﺱ ﭼﻤﻦ ﮐﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ !
ﺷﺎﯾﺪ ﻣﺮﺗﻀﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﺁﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﮐﺮﺩﯼ
ﺷﺎﯾﺪ ﻣﺮﺗﻀﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﺟﻠﺪﯼ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ
ﺷﺎﯾﺪ ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮨﮯ
ﺷﺎﯾﺪ ﻣﺤﺒﺖ ﺟﻼﻭﻃﻨﯽ ﮨﮯ !!
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﭘﺮ
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻼﻭﻃﻦ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﭘﺮ
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﻼﻭﻃﻦ ﺗﮭﺎ
ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﭘﺮ
ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﮯ
’’ ﻣﯿﺮ ۔۔۔ﻣﯿﺮ۔۔۔ﻣﯿﺮ ‘‘!
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﺎﻣﮑﻤﻞ ﻧﻈﻢ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﻥ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﮍﮬﺎ ﻧﺎﻭﻝ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻧﯿﺎﻡ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ !!
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﺒﻨﺎﻧﯽ ﭘﺎﺳﭙﻮﺭﭦ
ﺩﮐﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮈﺳﭧ ﺑﻦ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﻦ ﮨﮯ؛ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮞ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﮯ !
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻮ ﺳﺘﺮ ﮐﻠﻔﭩﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺱ ﺷﺎﺥ ﭘﺮ
ﺍﯾﮏ ﺗﻨﮩﺎ ﭘﻨﭽﮭﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ :
’’ ﻣﯿﮟ ﻋﻨﺪﻟﯿﺐِ ﮔﻠﺸﻦ ﻧﺎ ﺁﻓﺮﯾﺪﮦ ﮨﻮﮞ ‘‘
ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺑﻠﺒﻞ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ
ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﭽﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ
ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ
ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﯾﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ
ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﯿﺞ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ
ﻭﮦ ﺑﺎﻍ ﺑﺎﺥ ﮐﮯ ﻧﻐﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺳﺎﺯ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﯾﺘﯿﻢ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺳﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﺑﺴﻨﺖ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﺁﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﻧﺎﭘﯿﺪ ﺑﺎﻍ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺩﺍﺱ ﭘﻨﭽﮭﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﻮﻧﺪ ﮐﺮ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺑﺎﻍ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﺖ ﺟﮭﮍ ﮐﮯ ﺷﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺍﺩﺍﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ !
ﻭﮦ ﺑﺎﻍ ﺑﺎﺥ ﮐﮯ ﻧﻐﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﮐﺐ ﺟﺎﮔﮯ ﮔﺎ؟
ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﺮ ﮐﻮﻧﭙﻞ ﻧﻮﺯﺍﺋﯿﺪﮦ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ
ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﺯﮎ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﺐ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮔﺎ
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﻼﻭﻃﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮐﺐ ﺑﻮﻟﮯ ﮔﺎ؟
’’ ﮐﺐ ﭨﮩﺮﮮ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺍﮮ ﺩﻝ
ﮐﺐ ﺭﺍﺕ ﺑﺴﺮ ﮨﻮﮔﯽ؟
ﺳﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ
ﺳﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺳﺤﺮ ﮨﻮﮔﯽ !
ﮐﺐ ﺟﺎﻥ ﻟﮩﻮ ﮨﻮﮔﯽ؟
ﮐﺐ ﺍﺷﮏ ﮔﮩﺮ ﮨﻮﮔﺎ؟
ﮐﺲ ﺩﻥ ﺗﯿﺮﯼ ﺷﻨﻮﺍﺋﯽ
ﺍﮮ ﺩﯾﺪﮦ ﺗﺮ ﮨﻮﮔﯽ؟ ‘‘
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻮ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺯﻭﺍﻝ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﻋﺮﻭﺝ ﮐﺐ ﺑﻨﮯ ﮔﯽ؟
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﻟﮩﻦ ﺟﯿﺴﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺐ ﺳﺠﮯ ﮔﯽ؟
’’ ﮐﺐ ﭨﮩﺮﮮ ﮔﺎ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﺍﮮ ﺩﻝ
ﮐﺐ ﺭﺍﺕ ﺑﺴﺮ ﮨﻮﮔﯽ
ﺳﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ
ﺳﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺳﺤﺮ ﮨﻮﮔﯽ؟ ‘‘
ﻭﮦ ﺳﺤﺮ ﮐﺐ ﭼﮭﺎﺋﮯ ﮔﯽ؟
ﻭﮦ ﮔﮭﮍﯼ ﮐﺐ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ؟
ﮐﺐ ﻣﺬﺩﻭﺭ ﻣﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯿﮟ ﮔﮯ؟
ﮐﺐ ﮐﺴﺎﻥ ﮨﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯿﮟ ﮔﮯ؟
ﮐﺐ ﮨﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﻭﮦ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﮐﺐ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ؟
ﺟﺲ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﮔﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺥ ﺩﻭﻟﮩﮯ
ﺳﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﮦ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﮔﺌﮯ
ﺳﻔﯿﺪ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﺩﻟﮩﻦ
ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﻮﻧﮕﮭﭧ ﮐﮯ ﭘﭧ ﮐﺐ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮔﯽ؟
ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﮐﮭﮯ ﺷﺠﺮ ﺑﮧ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﻠﺒﻞ
ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﻧﭻ ﮐﺐ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮔﯽ؟
ﯾﮧ ﺑﻠﺒﻞ ﮐﺐ ﺑﻮﻟﮯ ﮔﯽ؟
’’ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺁﺧﺮﯼ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺁﺧﺮﯼ ﮨﮯ ﺟﻨﮓ !
ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺁﺧﺮﯼ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺁﺧﺮﯼ ﮨﮯ ﺟﻨﮓ !!!!

Mard Sub aik say hoty hain

تم جو کہتی ہو بنتِ حوا
مرد سب ایک سے ہوتے ہیں
کبھی دیکھا نہیں تم نے؟
کوئی باپ کہیں ایسا
کوئی بھائی کہیں ایسا
جس کا نہ پیر ہو زمیں پر
نہ شکوہء شکن ہو جبیں پر
جو بیٹی کے لئے روز
 کچھ نہ کچھ لاتا ہوں
جو اپنی بہن کے روز
ہنس کے لاڈ اُٹھاتا ہو
جسے خیال اپنا  نہ اپنی صحت کا 
جو ماں کا لال ہو محافظ رحمت کا
چلے جو ساتھ بیٹی کے 
لوگوں کی نظر جھک جائے 
جو کھڑا ہو ساتھ بہن کے 
مجال کیا کوئی نگاہ اُٹھائے 
جس کی جوتی بھی گھر کی چوکھٹ پر
چوکیداری کا کام کرتی ہو
جسکی نسبت سے بنتِ آدم کا
دنیا احترام کرتی ہو
تم نے دیکھے نہیں مرد ایسے ؟
جنکے پاس ہو اگر کچھ پیسے
خواہشیں اپنی وہ مار دیتے ہیں
کتنے پردیسی  اپنی کئیں عیدیں 
اکیلا تنہا گزار دیتے ہیں
تم نے دیکھے کہاں ہے مرد سنو 
بارڈر کے کہیں پاس چلو 
کچھ مرد تمھیں دکھانے ہیں
جنکے بٹووں میں ہی گھرانے ہیں
جو یادوں کے سہارے جیتے ہیں
تم دیکھنا کیا کھاتے پیتے ہیں
ہاں ٹھیک ہے کسی مرد نے 
دل تمھارا دُکھایا ہوگا کبھی
بے وجہ تمھارے ارمانوں کا
گلا دبایا ہوگا کبھی 
مگر نہیں میں مانتی کہ ہاں جی ہاں
مرد سب کے سب سانجھے ہیں
نہ کہتی ہوں کہ اب بھی یہاں
بستے کئیں رانجھے ہیں
میں بس کہوں گی اتنا کہ
میرے پاس جو میرے بابا ہیں
میرے سنگ جو میرا بھائی ہے
بہترین مرد کہتے ہیں کسے 
یہ بات اُنھوں نے سمجھائی ہے
بکواس ہے سراسر جھوٹ ہے 
کوئی اسمیں نہیں سچائی ہے
مرد سب ایک سے ہوتے ہیں
یہ افواہ غلط پھیلائی ہے 
یہ افواہ غلط پھیلائی ہے

Mohsin Naqvi




دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد​
کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد​

کوئی پیغام نہ دلدارِ نوا تیرے بعد​
خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد​

لب پہ اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد​
دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد​

عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد​
ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد​

دھوپ عارض کی نہ زلفوں کی گھٹا تیرے بعد​
ہجر کی رت ہے کہ حبس کی فضا تیرے بعد​

لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد​
پرچمِ تارِ گریباں کو ہوا تیرے بعد​

پیرہن اپنا سلامت نہ قبا تیرے بعد​
بس وہی ہم وہی صحرا کی ردا تیرے بعد​

نکہت و نے ہے تہِ دستِ قضا تیرے بعد​
شاخِ جاں پر کوئ غنچہ نہ کھلا تیرے بعد​

دل نہ مہتاب سے الجھا نہ جلا تیرے بعد​
ایک جگنو تھا کہ چپ چاپ بجھ ا تیرے بعد​

کون رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد​
اپنا خوں اپنی ہتھیلی پہ سجا تیرے بعد​

درد سینے میں ہوا نوحہ سرا تیرے بعد​
دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد​

ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد​
ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد​

ایک قیامت کی خراشیں تیرے سر پہ سجیں​
ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد​

تجھ سے بچھڑا ہوں تو مرجھا کے ہوا بُرد ہوا​
کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد​

اے فلک ناز میری خاک نشانی تیری​
میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد​

تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا​
میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد​

ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے​
کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد​

بجھتے جاتے ہیں خدوخال’ مناظر ‘ آفاق​
پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد​

یہ الگ بات ہے کہ افشا نہ ہوا تو ورنہ​
میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد​

میری دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا​
میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد​

سہ لیا دل نے تر ے بعد ملامت کا عذاب​
ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد​

جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں !​
شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد​

محسن نقوی
طلوعِ اشک سے انتخاب