مینا کماری ناز

ﻣﯿﻨﺎ ﮐﻤﺎﺭﯼ ﻧﺎﺯؔ
ﺁﺑﻠﮧ  ﭘﺎ  ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺩﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ
ﻭﺭﻧﮧ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺟﻼﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ
ﺫﺭّﮮ ﺫﺭّﮮ ﭘﮧ ﺟﮍﮮ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﮐﻨﻮﺍﺭﮮ ﺳﺠﺪﮮ
ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺑﺖ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ
ﭘﯿﺎﺱ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺠﮭﺎﺋﯽ ﮨﻮﮔﯽ
ﺭِﺳﺘﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﮧ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ
ﻣﻼ ﺟﻮ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﭘﺘﮭﺮ
ﺍﭘﻨﺎ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﻝ ﯾﺎﺩ ﺗﻮ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ
ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﭼﮭﯿﻨﭩﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﻮﭼﮫ ﻧﮧ ﻟﯿﮟ ﺭﺍﮨﺮﻭﺳﮯ
ﮐﺲ ﻧﮯ ﻭﯾﺮﺍﻧﮯ ﮐﻮ ﮔﻠﺰﺍﺭ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ

محبت کی کہانی میں

محبت کی کہانی میں کوئی تمرین مت کرنا
مجھے تم توڑ دینا پر مجھے تقسیم مت کرنا

میں چاھت کی کہانی کو سنانے آونگا ایک دن
میری چاھت سمجھ لینا مجھے مایوس مت کرنا

اگر تم کو محبت سے کبھی انکار کرنا ہو
مجھے چپکے سے کہہ دینا مجھے نیلام مت کرنا

ساغر صدیقی

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں 
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں

تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں 
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں

دور تک کوئی ستارہ ہے نہ کوئی جگنو 
مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں

مرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں 
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں

کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر 
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں

حشر میں کون گواہی مری دے گا ساغرؔ 
سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں

کہتے ہيں تم کو ہوش نہيں اضطراب ميں

کہتے ہيں تم کو ہوش نہيں اضطراب ميں
سارے گلے تمام ہوئے اک جواب ميں

رہتے ہيں جمع کوچہ جاناں ميں خاص و عام
آباد ايک گھر ہے جہاں خراب ميں

کيا جلوے ياد آئے کہ اپني خبر نہيں 
بے بادہ مست ہوں ميں شب ماہ تاب میں 

Tumhen Kis Ne Kaha Tha ...?

Dopehar Ke Garm Suraj Ki Taraf Dekho
Or Itni Der Tak Dekho ...?
Ke Binayi Pighal Jaye

Tumhen Kis Ne Kaha Tha ...?

Asman Se Toot'ti Andhi Ulajhti Bijliyon Se
Dosti Kar Lo
Or Itni Dosti Karlo
Ke Ghar Ka Ghar He Jal Jaye

Tumhen Kis Ne Kaha Tha ...?

Ek Anjaane Safar Main
Ek Ajnabi Ke Hamrah Door Tak Jao
Or Itni Door Tak Jao
Ke Woh Rasta Badal Jaye

Tumhen Kis Ne Kaha Tha ...?

Reet Par Likh K Mera Naam Mitaya Na Karo


Reet Par Likh K Mera Naam Mitaya Na Karo
Ankhain Sach Bolti Hain Pyar Chupaya Na Karo

Log Har Baat Ka Afsana Baana Lete Hain
Sab Ko Halaat Kii Rudaad Sunaya Na Karo

Yeh Zaroori Nahi Har Shakhs Masiiha Hie Ho
Pyar K Zakhm Amaanat Hain Dikhayaa Na Karo

Shahar-E-Ehsaas Main Patharaav Buhat Hain 'Mohsin'
Dil Ko Sheeshe Kai Jharonkhon Main Sajaya Na Karo

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا 
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا 

اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں 
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا 

کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے 
کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا 

میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت 
آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ہوگا 

رات جل تھل مری آنکھوں میں اتر آیا تھا 
صورت ابر کوئی ٹوٹ کے برسا ہوگا 

یہ مسیحائی اسے بھول گئی ہے محسنؔ 
یا پھر ایسا ہے مرا زخم ہی گہرا ہوگا 

کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا

کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
بھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا

بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویا
بجز میرے یہ دکھ بھی کس نے جھیلا میں اکیلا

یہ بے آواز بنجر بن کے باسی یہ اداسی
یہ دہشت کا سفر جنگل یہ بیلہ میں اکیلا

میں دیکھوں کب تلک منظر سہانے سب پرانے
وہی دنیا وہی دل کا جھمیلا میں اکیلا

وہ جس کے خوف سے صحرا سدھارے لوگ سارے
گزرنے کو ہے طوفاں کا وہ ریلا میں اکیلا

فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا

فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا

یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
مری زباں کو زر التماس کیا دے گا

جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

یہ شہر یوں بھی تو دہشت بھرا نگر ہے یہاں
دلوں کا شور ہوا کو ہراس کیا دے گا

وہ زخم دے کے مجھے حوصلہ بھی دیتا ہے
اب اس سے بڑھ کے طبیعت شناس کیا دے گا

جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک
وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا

وہ میرے اشک بجھائے گا کس طرح محسنؔ
سمندروں کو وہ صحرا کی پیاس کیا دے گا

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
سوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا

صحرا کی منہ زور ہوائیں اوروں سے منسوب ہوئیں
مفت میں ہم آوارہ ٹھہرے مفت میں گھر ویران ہوا

میرے حال پہ حیرت کیسی درد کے تنہا موسم میں
پتھر بھی رو پڑتے ہیں انسان تو پھر انسان ہوا

اتنی دیر میں اجڑے دل پر کتنے محشر بیت گئے
جتنی دیر میں تجھ کو پا کر کھونے کا امکان ہوا

کل تک جس کے گرد تھا رقصاں اک انبوہ ستاروں کا
آج اسی کو تنہا پا کر میں تو بہت حیران ہوا

اس کے زخم چھپا کر رکھیے خود اس شخص کی نظروں سے
اس سے کیسا شکوہ کیجے وہ تو ابھی نادان ہوا

جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

یوں بھی کم آمیز تھا محسنؔ وہ اس شہر کے لوگوں میں
لیکن میرے سامنے آ کر اور بھی کچھ انجان ہوا

جان محسنؔ مری تقدیر میں کب لکھا ہے .. ڈوبتا چاند ترا قرب گجر سناٹا

پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا

دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا

کس سے پوچھوں کہ کہاں ہے مرا رونے والا
اس طرف میں ہوں مرے گھر سے ادھر سناٹا

تو صداؤں کے بھنور میں مجھے آواز تو دے
تجھ کو دے گا مرے ہونے کی خبر سناٹا

اس کو ہنگامۂ منزل کی خبر کیا دوگے
جس نے پایا ہو سر راہ گزر سناٹا

حاصل کنج قفس وہم بکف تنہائی
رونق شام سفر تا بہ سحر سناٹا

قسمت شاعر سیماب صفت دشت کی موت
قیمت ریزۂ الماس ہنر سناٹا

جان محسنؔ مری تقدیر میں کب لکھا ہے
ڈوبتا چاند ترا قرب گجر سناٹا

بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا

بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا

ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا

حیات اب شام غم کی تشیبہ خود بنے گی
تمہاری زلفوں کا استعارہ نہیں چلے گا

چلو سروں کا خراج نوک سناں کو بخشیں
کہ جاں بچانے کا استخارہ نہیں چلے گا

ہمارے جذبے بغاوتوں کو تراشتے ہیں
ہمارے جذبوں پہ بس تمہارا نہیں چلے گا

ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا

ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا

نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس
زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا

صبح کے تارے مری پہلی دعا تیرے لیے
تو دل بے صبر کو تسکیں ذرا سی دے گیا

لوگ ملبوں میں دبے سائے بھی دفنانے لگے
زلزلہ اہل زمیں کو بد حواسی دے گیا

تند جھونکے کی رگوں میں گھول کر اپنا دھواں
اک دیا اندھی ہوا کو خود شناسی دے گیا

لے گیا محسنؔ وہ مجھ سے ابر بنتا آسماں
اس کے بدلے میں زمیں صدیوں کی پیاسی دے گیا

اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا

اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا

اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک
زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا

موج در موج الجھنے کی ہوس بے معنی
ڈوبتا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا

تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا
ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا

آگ کی ضد پہ نہ جا پھر سے بھڑک سکتی ہے
راکھ کی تہہ میں شرارہ نہیں دیکھا جاتا

زخم آنکھوں کے بھی سہتے تھے کبھی دل والے
اب تو ابرو کا اشارا نہیں دیکھا جاتا

کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسنؔ
دل پہ اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا

ب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا
برگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا

جب کوئی سمت سفر طے تھی نہ حد رہ گزر
اے مرے رہ رو سفر تو رائیگاں ہونا ہی تھا

مجھ کو رکنا تھا اسے جانا تھا اگلے موڑ تک
فیصلہ یہ اس کے میرے درمیاں ہونا ہی تھا

چاند کو چلنا تھا بہتی سیپیوں کے ساتھ ساتھ
معجزہ یہ بھی تہہ آب رواں ہونا ہی تھا

میں نئے چہروں پہ کہتا تھا نئی غزلیں سدا
میری اس عادت سے اس کو بدگماں ہونا ہی تھا

شہر سے باہر کی ویرانی بسانا تھی مجھے
اپنی تنہائی پہ کچھ تو مہرباں ہونا ہی تھا

اپنی آنکھیں دفن کرنا تھیں غبار خاک میں
یہ ستم بھی ہم پہ زیر آسماں ہونا ہی تھا

بے صدا بستی کی رسمیں تھیں یہی محسنؔ مرے
میں زباں رکھتا تھا مجھ کو بے زباں ہونا ہی تھا

Meray Baba

Tumhain Jb Sochti Hun Me
Ye Ankhain Bheeg Jati Hain
Sabar Ye Toot Jata Hai
Sath Sb Choot Jata Hai

Tumhain Jb Yad Karti Hun
Dua Har Baar Karti Hun
Kaash K Loat Ao Tum
Me Rab Sy Faryad Karti Hun

Zindagi Ki Mushkilun Sy Jb
Me Himaat Haar Jati Hun
Tumhara Shafqaton Wala Hath
Sar Py Har Bar Pati Hun

Karakti Dhoop Me Aksar
Me Jb Thak Haar Jati Hun
Tumhara Saya Mery Baba
Me Apny Pas Pati Hun

Bht Baichain Rehti Hun
Tumhain He Yad Karti Hun
Kash K Loat Ao Tum
Me Tum Sy Pyar Karti Hun